2026 ایل بی ڈبلیو: 7 اہم نکات
کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو اسی وقت دیا جاتا ہے جب گیند نو بال نہ ہو، بلے باز کے جسم سے ٹکرانے کے بعد امپائر کو یقین ہو کہ گیند وکٹ سے ٹکرا جاتی، اور قانون 36 کی باقی شرائط بھی پوری ہوں۔ بیٹنگ نوٹس کے مطابق...
2026 ایل بی ڈبلیو: 7 اہم نکات
کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو اسی وقت دیا جاتا ہے جب گیند نو بال نہ ہو، بلے باز کے جسم سے ٹکرانے کے بعد امپائر کو یقین ہو کہ گیند وکٹ سے ٹکرا جاتی، اور قانون 36 کی باقی شرائط بھی پوری ہوں۔ بیٹنگ نوٹس کے مطابق یہ فیصلہ صرف پیڈ پر گیند لگنے سے نہیں بنتا؛ گیند کا پچ ہونا، ٹکر کا مقام، بلے سے پہلے یا بعد کا رابطہ اور شاٹ کھیلنے کی کوشش سب اہم ہیں۔ گیند اگر لیگ اسٹمپ کے باہر پچ کرے تو عام طور پر ایل بی ڈبلیو نہیں ہوتا، جبکہ آف اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند پر شاٹ نہ کھیلنے کی صورت میں آؤٹ دیا جا سکتا ہے۔ ڈی آر ایس میں ہاک آئی اور امپائرز کال فیصلہ بدل سکتے ہیں، مگر ہر معمولی فرق آؤٹ نہیں بناتا۔ درست طریقہ یہ ہے کہ پہلے گیند کا پچ، پھر رابطہ اور آخر میں وکٹ کا راستہ دیکھیں۔

ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ دیکھنے میں ایک لمحے کا کام لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے کئی شرطیں چھپی ہوتی ہیں۔ اسکور بورڈ پر صرف “ایل بی ڈبلیو” لکھا آتا ہے، جیسے قانون نے کوئی لمبی بحث کی ہی نہ ہو؛ کرکٹ کے شائقین بھی اکثر یہی آسان سا فریب کھا لیتے ہیں۔ [میرے عزیز نو آموز، پیڈ پر لگنے والی ہر گیند آؤٹ نہیں ہوتی]۔ کرکٹ کے قوانین بنانے والی میریلیبون کرکٹ کلب کے قانون 36 میں گیند کے پچ ہونے، جسم سے ٹکرانے، بلے سے پہلے رابطے اور وکٹ سے ٹکرانے کے امکان کو الگ الگ دیکھا جاتا ہے۔ بیٹنگ نوٹس پر اس موضوع کی وضاحت کا مقصد یہی ہے کہ ٹی وی ری پلے کے شور کے بجائے قانون کو سمجھا جائے۔
اگر بلے باز شاٹ کھیلنے کی کوشش کرے تو آف اسٹمپ سے باہر ٹکراؤ عموماً ایل بی ڈبلیو نہیں بنتا، لیکن شاٹ نہ کھیلنے پر یہی مقام آؤٹ کا سبب بن سکتا ہے۔ گیند کا لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہونا بنیادی طور پر نااہل مقام ہے، چاہے باقی تصویر کتنی ہی خطرناک کیوں نہ لگے۔ اسی طرح اگر گیند پہلے بلے سے لگ جائے اور بعد میں پیڈ پر آئے تو ایل بی ڈبلیو ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ قانون پہلے رابطے کو دیکھتا ہے۔ کرکٹ کے بنیادی قوانین کی رہنمائی
بات کو مثال، ترتیب اور صاف اصولوں کے ساتھ سمجھنا ہو تو بیٹنگ نوٹس کی مکمل کرکٹ وضاحت دیکھیں۔
اگر گیند کا پچ اور راستہ جانچ رہے ہیں تو پہلے تین مقامات دیکھیں
ایل بی ڈبلیو کے بنیادی فیصلے میں تین مقامات اہم ہیں: گیند کہاں پچ ہوئی، بلے باز کے جسم سے کہاں ٹکرائی، اور فرضی راستے میں گیند وکٹ سے ٹکراتی یا نہیں۔ لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند پر ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جاتا، جبکہ آف اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند کا فیصلہ اس بات سے جڑتا ہے کہ بلے باز نے شاٹ کھیلا یا نہیں۔ آخری شرط وکٹ سے ٹکرانے کا امکان ہے، محض پیڈ سے ٹکرانا کافی نہیں۔
پچ کا مقام اکثر سب سے پہلے نظر انداز ہوتا ہے، خاص طور پر جب گیند تیزی سے اندر آئے یا اسپن کے بعد پیڈ سے لگے۔ مثال کے طور پر گیند ٹانگوں کے سامنے سیدھی لگے، مگر اگر اس نے لیگ اسٹمپ کے باہر زمین چھوئی تھی تو اپیل بے کار ہے۔ دوسری طرف آف اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند پر بلے باز نے دفاعی شاٹ کی کوشش نہ کی ہو تو قانون امپائر کو آؤٹ دینے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ وہ باریک فرق ہے جسے عام ناظر “گیند تو وکٹ پر جا رہی تھی” کہہ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔
قانون 36 کے عملی تجزیے میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ گیند وکٹوں کے درمیان کی لائن میں جسم سے ٹکرائی یا نہیں۔ اگر بلے باز نے شاٹ کھیلا تو آف اسٹمپ کے باہر رابطہ بچاؤ فراہم کر سکتا ہے؛ اگر شاٹ نہیں کھیلا تو وہ رعایت ختم ہو جاتی ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ڈی آر ایس نظام میں ہاک آئی کا بال ٹریکنگ ماڈل اسی سلسلے کو دکھاتا ہے، مگر ماڈل بھی امپائر کے اصل فیصلے کی جگہ ہر حالت میں نہیں لیتا۔ ڈی آر ایس اور امپائرز کال کی وضاحت
یہاں عملی ترتیب یاد رکھیں:
- پہلے دیکھیں گیند نو بال تو نہیں تھی۔
- پھر پچ کا مقام دیکھیں، خاص طور پر لیگ اسٹمپ کے باہر۔
- اس کے بعد گیند اور جسم کا پہلا رابطہ تلاش کریں۔
- آخر میں گیند کا فرضی راستہ وکٹوں تک پہنچائیں۔
ایل بی ڈبلیو کے فیصلے کو اسی ترتیب سے پڑھیں؛ ورنہ ری پلے کو بار بار دیکھ کر بھی وہی غلط نتیجہ نکلے گا۔
اگر بلے اور جسم کے رابطے کا فیصلہ کرنا ہو تو پہلے رابطہ پکڑیں
ایل بی ڈبلیو میں جسم سے رابطے کا درست لمحہ فیصلہ کن ہوتا ہے، کیونکہ گیند پہلے بلے سے لگے تو بعد کا پیڈ رابطہ آؤٹ نہیں بناتا۔ بلے کے ساتھ پکڑا ہوا ہاتھ بھی قانون میں بلے کا حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن بازو، دستانہ یا جسم کا دوسرا حصہ اس تحفظ میں شامل نہیں ہوتا۔ اس لیے رابطے کی ترتیب صرف “بلہ قریب تھا” سے نہیں، بلکہ ویڈیو کے فریم سے طے ہوتی ہے۔
کئی مشکل فیصلوں میں گیند بلے اور پیڈ کو تقریباً ایک ہی لمحے چھوتی دکھائی دیتی ہے۔ سست رفتار ویڈیو یہاں مدد دیتی ہے، مگر آواز کا جھٹکا ہمیشہ قابلِ اعتماد ثبوت نہیں ہوتا؛ گیند کے بلے کے کنارے سے لگنے کی آواز دیر سے بھی آ سکتی ہے۔ ڈی آر ایس میں الٹرا ایج یا سنیکو عموماً رابطے کا اشارہ دیتے ہیں، مگر اس ٹیکنالوجی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر لکیر قطعی فیصلہ ہے۔ اگر واضح ثبوت نہ ہو تو میدان کا فیصلہ برقرار رہ سکتا ہے۔
شاٹ کھیلنے کی نیت بھی اہم ہے، مگر نیت کا اندازہ بلے کی حرکت، جسم کی پوزیشن اور گیند کی لائن سے لگایا جاتا ہے۔ بلے باز نے بلہ ہلایا یا نہیں، یہ سوال کافی نہیں؛ بعض اوقات دفاعی انداز میں بلہ پیچھے رہ جاتا ہے، جبکہ بعض اوقات پیڈ بچانے کے لیے بلہ آگے آتا ہے۔ کرکٹ قوانین کے اصل متن میں “شاٹ کھیلنے کی کوشش” کی یہی عملی اہمیت ہے۔ “جسم سے لگنا” اور “ایل بی ڈبلیو ہونا” دو الگ باتیں ہیں، مگر ناظر اکثر انہیں ایک ہی سمجھتے ہیں۔
یہ مختصر فہرست غلط فہمی کم کرتی ہے:
- گیند پہلے بلے سے لگی تو ایل بی ڈبلیو نہیں۔
- دستانے میں پکڑا ہوا ہاتھ بلے کے ساتھ ہو تو بلے کا حصہ ہے۔
- گیند پہلے پیڈ سے لگی تو جسم سے رابطے کی جگہ دیکھی جائے گی۔
- آف اسٹمپ کے باہر رابطہ شاٹ کھیلے جانے یا نہ کھیلے جانے سے بدلتا ہے۔
- گیند لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہوئی تو باقی شرائط بے معنی ہو جاتی ہیں۔
قانون کی اصل مشکل یہی ہے: ایک ہی گیند میں رابطے کے دو ممکنہ لمحے ہوتے ہیں، اور غلط لمحہ چن کر پورا فیصلہ الٹ جاتا ہے۔
اس رابطے کے فرق کو حقیقی میچ مثالوں کے ساتھ دیکھنا ہو تو بیٹنگ نوٹس کے تجزیاتی صفحات مدد دیتے ہیں۔

اگر ڈی آر ایس استعمال ہو تو تین فیصلے الگ الگ سمجھیں
ڈی آر ایس میں ایل بی ڈبلیو کا جائزہ تین حصوں میں ہوتا ہے: گیند کا پچ مقام، گیند کا جسم سے رابطہ، اور وکٹ سے ٹکرانے کا امکان۔ پہلے مرحلے میں ٹیکنالوجی بتاتی ہے کہ گیند لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہوئی یا نہیں؛ دوسرے میں الٹرا ایج یا ری پلے رابطے کو جانچتے ہیں؛ تیسرے میں بال ٹریکنگ وکٹوں تک ممکنہ راستہ دکھاتی ہے۔ ہر مرحلہ الگ سوال کا جواب دیتا ہے، اس لیے آخری گراف دیکھ کر پہلے دو مراحل بھول جانا غلط ہے۔
امپائرز کال اس نظام کا سب سے زیادہ غلط سمجھا جانے والا حصہ ہے۔ اگر گیند کا وکٹ سے ٹکرانے والا حصہ مقررہ حد کے اندر ہو مگر مکمل یقین کی سطح تک نہ پہنچے، تو میدان کے امپائر کا اصل فیصلہ برقرار رہ سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی ناکام ہے؛ یہ کھیل کے قانون میں معمولی فرق کے لیے رکھی گئی حفاظتی حد ہے۔ آئی سی سی کے ڈی آر ایس ضوابط میں فیصلہ سازی کے اس عمل کو امپائر کے اختیار اور ٹیکنالوجی کے ثبوت کے درمیان توازن کے طور پر رکھا گیا ہے۔
ایک اہم عملی نکتہ یہ ہے کہ ڈی آر ایس اپیل صرف اس وقت فائدہ دیتی ہے جب ٹیم کو معلوم ہو کہ اعتراض کس مرحلے پر ہے۔ اگر میدان میں ناٹ آؤٹ دیا گیا اور گیند کا آدھے سے زیادہ حصہ وکٹ سے ٹکراتا دکھائی دے، تو جائزہ مفید ہو سکتا ہے؛ لیکن اگر پچ مقام لیگ سائیڈ کے باہر صاف نظر آ رہا ہو تو اپیل ضائع کرنا محض جذباتی فیصلہ ہے۔ ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میں جائزوں کی تعداد اور مقابلے کے ضوابط الگ ہو سکتے ہیں، اس لیے میچ کے مخصوص قوانین دیکھنا ضروری ہے۔
ڈی آر ایس پڑھتے وقت یہ ترتیب استعمال کریں:
- میدان کا اصل فیصلہ نوٹ کریں۔
- پچ کا مقام دیکھیں۔
- بلے سے پہلے رابطہ ہوا یا نہیں، یہ طے کریں۔
- امپیکٹ کی لائن دیکھیں۔
- وکٹ سے ٹکرانے کے گراف اور امپائرز کال کو آخر میں پڑھیں۔
یہاں سب سے قابلِ عمل نئی بات یہی ہے کہ بال ٹریکنگ کو آغاز نہیں، آخری مرحلہ سمجھا جائے۔ پہلے رابطہ غلط پڑھ لیا تو خوب صورت گراف بھی غلط نتیجہ ہی سجائے گا۔
ڈی آر ایس کے ہر مرحلے کو سادہ مثالوں میں سمجھنے کے لیے یہ متعلقہ رہنمائی دیکھیں۔
ایل بی ڈبلیو میں کون سی عام غلطیاں نہیں کرنی چاہئیں؟
ایل بی ڈبلیو کی سب سے عام غلطی یہ سمجھنا ہے کہ پیڈ پر لگی ہر سیدھی گیند آؤٹ ہے، جبکہ قانون پچ مقام، رابطے اور شاٹ تینوں دیکھتا ہے۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ ناظر گیند کے آخری مقام کو دیکھتا ہے، حالانکہ فیصلہ پہلے رابطے اور پچ سے شروع ہوتا ہے۔ تیسری غلطی امپائرز کال کو “غلط ٹیکنالوجی” کہنا ہے، حالانکہ یہ معمولی فرق کے لیے طے شدہ فیصلہ جاتی اصول ہے۔
کمنٹری میں “گیند وکٹ پر جا رہی تھی” سن کر لوگ فوراً فیصلہ نکال لیتے ہیں، مگر یہ صرف ایک شرط ہے۔ اگر گیند لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہوئی، یا بلے سے پہلے رابطہ ثابت نہ ہوا، تو وکٹ کا راستہ بھی کافی نہیں۔ اسی طرح بلے باز کا آگے نکلنا خود بخود شاٹ کھیلنے کی کوشش نہیں بناتا؛ بلے کی حرکت اور جسم کی پوزیشن دونوں دیکھی جاتی ہیں۔ یہ باریکی خاص طور پر اسپن باؤلنگ میں سامنے آتی ہے، جہاں پیڈ، بلہ اور گیند ایک ہی منظر میں گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔
میچ دیکھتے وقت ان غلط عادتوں سے بچیں:
- صرف اپیل کی شدت کو ثبوت نہ سمجھیں۔
- ری پلے کی آواز کو واحد فیصلہ کن نشان نہ بنائیں۔
- گیند کے آخری مقام کو پہلے نہ دیکھیں۔
- “امپائرز کال” کو آؤٹ یا ناٹ آؤٹ کی مکمل ضمانت نہ سمجھیں۔
- بلے باز کے قدم کو شاٹ کا حتمی ثبوت نہ مانیں۔
- نو بال کی شرط بھول کر ایل بی ڈبلیو پر بحث نہ کریں۔
میریلیبون کرکٹ کلب کے قانون 36 کا بنیادی خلاصہ یہ ہے: “گیند کے جسم سے ٹکرانے کے بعد وکٹ سے ٹکرانے کا امکان ہونا ضروری ہے۔” اس جملے میں قانون کی بنیاد موجود ہے، مگر پچ اور بلے سے پہلے رابطے کی شرائط اسے مکمل کرتی ہیں۔ یعنی مختصر جملہ پڑھ کر خود کو قانون کا ماہر سمجھ لینا بھی ایک الگ قسم کی کرکٹ کامیڈی ہے۔

30 دن میں ایل بی ڈبلیو قانون کیسے پکا کریں؟
ایل بی ڈبلیو قانون 30 دن میں سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ روزانہ چند فیصلوں کو ایک ہی ترتیب سے لکھا جائے: نو بال، پچ، پہلا رابطہ، امپیکٹ، وکٹ کا راستہ اور شاٹ۔ پہلے ہفتے میں صرف قانون 36 پڑھیں، دوسرے ہفتے میں مختلف پچ مقامات کی مثالیں دیکھیں، تیسرے ہفتے میں ڈی آر ایس اور امپائرز کال کا موازنہ کریں، اور چوتھے ہفتے میں مکمل اسکور کارڈ کے فیصلوں کی اپنی وجہ لکھیں۔ اس مشق سے یادداشت کے بجائے فیصلہ سازی کا ڈھانچہ بنتا ہے۔
بیٹنگ نوٹس پر میچ جائزہ پڑھتے ہوئے ہر ایل بی ڈبلیو اپیل کو چھ خانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر افغانستان اے اور انڈیا اے کے میچ میں کسی بلے باز کے پیڈ یا دستانے سے متعلق فیصلہ دیکھتے وقت صرف امپائر کی انگلی پر توجہ نہ دیں؛ کمنٹری میں رابطے کی نوعیت، گیند کی سمت اور شاٹ کی کوشش کے الفاظ تلاش کریں۔ اسی طرح پاکستان، نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کی سہ فریقی سیریز جیسے میچوں میں مختلف فارمیٹس کے فیصلوں کا موازنہ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ٹی ٹوئنٹی کا دباؤ قانون نہیں بدلتا، صرف ردِعمل تیز کر دیتا ہے۔
30 دن کا عملی منصوبہ یہ ہو سکتا ہے:
- دن 1 تا 7: قانون 36 اور نو بال کی شرط پڑھیں۔
- دن 8 تا 14: لیگ، آف اور وکٹوں کے درمیان پچ کی مثالیں الگ کریں۔
- دن 15 تا 21: بلہ، پیڈ اور دستانے کے پہلے رابطے کی ویڈیو دیکھیں۔
- دن 22 تا 26: امپائرز کال اور بال ٹریکنگ کے فیصلے لکھیں۔
- دن 27 تا 30: دس اپیلوں پر اپنا فیصلہ دیں، پھر سرکاری ری پلے سے ملائیں۔
اس مشق کا مقصد ہر اپیل پر چیخنا نہیں، بلکہ یہ بتانا ہے کہ فیصلہ کس شرط پر بنا یا ٹوٹا۔ کرکٹ باؤلنگ حکمت عملی اور لائن لینتھ قانون سمجھنے والا ناظر اسکور بورڈ سے زیادہ میچ پڑھتا ہے، اور یہی فرق بیٹنگ نوٹس کے میچ تجزیے کو محض خبر سے بہتر بناتا ہے۔
اگر اب اپنی سمجھ کو باقاعدہ میچ تجزیے سے جوڑنا چاہتے ہیں تو بیٹنگ نوٹس کی روزانہ کرکٹ بصیرت دیکھیں۔
ایل بی ڈبلیو کا فوری فیصلہ جاتی نقشہ
- نو بال ہے؟ اگر ہاں، ایل بی ڈبلیو نہیں۔
- گیند لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہوئی؟ عموماً ایل بی ڈبلیو نہیں۔
- گیند پہلے بلے سے لگی؟ ایل بی ڈبلیو نہیں۔
- رابطہ وکٹوں کی لائن میں ہے؟ اگلی شرط دیکھیں۔
- گیند وکٹ سے ٹکراتی؟ اگر ہاں، اور باقی شرائط پوری ہیں، تو آؤٹ ممکن ہے۔
- آف اسٹمپ کے باہر رابطہ ہوا؟ شاٹ کھیلا گیا یا نہیں، یہ فیصلہ بدل سکتا ہے۔
نتیجہ سیدھا ہے: ایل بی ڈبلیو پیڈ، اپیل یا بال ٹریکنگ کا الگ الگ کھیل نہیں، بلکہ چھوٹی چھوٹی شرائط کا مجموعہ ہے۔ 2026 میں بھی قانون وہی بنیادی منطق رکھتا ہے جسے میریلیبون کرکٹ کلب نے قانون 36 میں مرتب کیا ہے؛ بدلتی ٹیکنالوجی صرف ثبوت دکھانے کا طریقہ بہتر کرتی ہے۔ اگلی بار اپیل ہو تو پہلے پچ دیکھیں، پھر پہلا رابطہ، پھر وکٹ کا راستہ—اور کمنٹری کی بلند آواز کو قانون نہ سمجھیں۔
مزید کرکٹ قوانین، میچ جائزوں اور کھلاڑیوں کے اعدادوشمار کے لیے بیٹنگ نوٹس سے جڑے رہیں۔
پی ایس ایل میچ جائزے اور تازہ اعدادوشمار
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو کیا ہے؟
جواب: ایل بی ڈبلیو وہ آؤٹ ہے جس میں نو بال کے علاوہ گیند بلے باز کے جسم سے لگے اور امپائر کے خیال میں وہ گیند وکٹ سے ٹکرا جاتی۔ گیند کا لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہونا عام طور پر ایل بی ڈبلیو کو ختم کر دیتا ہے۔ اگر گیند پہلے بلے سے لگ جائے تو بعد کا پیڈ رابطہ آؤٹ نہیں بناتا، جبکہ آف اسٹمپ کے باہر رابطے میں شاٹ کھیلنے کی کوشش فیصلہ بدل سکتی ہے۔
سوال: ایل بی ڈبلیو کیسے دیا جاتا ہے؟
جواب: امپائر پہلے نو بال، پچ مقام، پہلے رابطے، امپیکٹ اور وکٹ سے ٹکرانے کا امکان دیکھتا ہے۔ گیند لیگ اسٹمپ کے باہر پچ نہ ہوئی ہو، پہلے بلے سے نہ لگی ہو اور جسم سے رابطے کے بعد وکٹ کو لگتی دکھائی دے تو آؤٹ دیا جا سکتا ہے۔ ڈی آر ایس کی صورت میں یہی مراحل ہاک آئی، ری پلے اور امپائرز کال کے ذریعے دوبارہ جانچے جاتے ہیں۔
سوال: ایل بی ڈبلیو اور بولڈ میں کیا فرق ہے؟
جواب: بولڈ میں گیند براہِ راست وکٹ گرا دیتی ہے، جبکہ ایل بی ڈبلیو میں گیند پہلے بلے باز کے جسم سے ٹکراتی ہے اور پھر فرضی راستے میں وکٹ سے لگنے والی ہوتی ہے۔ ایل بی ڈبلیو کے لیے قانون 36 کی پچ، رابطے اور شاٹ والی شرائط بھی پوری ہونی چاہئیں۔ بولڈ میں گیند کے پیڈ سے پہلے ٹکرانے کا سوال نہیں ہوتا، اسی لیے دونوں فیصلوں کا طریقہ مختلف ہے۔
سوال: اگر گیند آف اسٹمپ کے باہر لگے تو ایل بی ڈبلیو کیوں کبھی دیا جاتا ہے؟
جواب: آف اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند پر شاٹ نہ کھیلنے کی صورت میں ایل بی ڈبلیو دیا جا سکتا ہے۔ اگر بلے باز نے واضح طور پر شاٹ کھیلنے کی کوشش کی ہو تو اسی مقام پر جسم سے رابطہ عموماً ناٹ آؤٹ بن جاتا ہے۔ تاہم گیند کا پہلے بلے سے لگنا، امپیکٹ کی لائن اور وکٹ سے ٹکرانے کا امکان پھر بھی الگ سے جانچا جاتا ہے۔
سوال: ڈی آر ایس میں امپائرز کال کیا ہوتی ہے؟
جواب: امپائرز کال وہ صورت ہے جس میں بال ٹریکنگ کا نتیجہ مقررہ حد کے قریب ہو اور میدان کا اصل فیصلہ برقرار رکھا جائے۔ یہ خاص طور پر امپیکٹ یا وکٹ سے ٹکرانے کے معمولی فرق میں سامنے آتی ہے۔ ڈی آر ایس ٹیکنالوجی ثبوت فراہم کرتی ہے، مگر ہر بار میدان کے امپائر کے فیصلے کو لازماً تبدیل نہیں کرتی۔
سوال: کیا دستانہ لگنے سے ایل بی ڈبلیو ختم ہو جاتا ہے؟
جواب: اگر دستانے میں پکڑا ہوا ہاتھ بلے کے ساتھ ہو تو قانون اسے بلے کا حصہ مانتا ہے، اس لیے گیند کا وہاں لگنا بلے سے رابطہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر گیند ایسے ہاتھ یا بازو سے لگے جو بلے کو نہیں پکڑے ہوئے تو جسم سے رابطہ شمار ہو سکتا ہے۔ فیصلہ کرتے وقت امپائر رابطے کے لمحے اور ہاتھ کی پوزیشن دونوں دیکھتا ہے۔
سوال: ایل بی ڈبلیو قانون سیکھنے کا آسان طریقہ کیا ہے؟
جواب: ہر اپیل کو چھ مرحلوں میں لکھیں: نو بال، پچ، پہلا رابطہ، امپیکٹ، وکٹ کا راستہ اور شاٹ۔ 30 دن تک روزانہ چند فیصلوں پر یہی ترتیب استعمال کرنے سے قانون یاد کرنے کے بجائے سمجھ میں آتا ہے۔ میریلیبون کرکٹ کلب کا قانون 36 اصل حوالہ ہے، جبکہ بیٹنگ نوٹس کی میچ وضاحتیں عملی مثالیں فراہم کرتی ہیں۔
پڑھنے کے لیے شکریہ
بیٹنگ نوٹس · Editorial Archive · 2026