مواد پر جائیں مواد پر جائیں
مضمون

2026 میں کرکٹ کے بنیادی اصول: نئے شائقین کی مکمل رہنمائی

کرکٹ کے بنیادی اصول یہ ہیں کہ دو ٹیمیں، عموماً 11، رنز بنانے اور حریف کو آؤٹ کرنے کے لیے مقابلہ کرتی ہیں۔ ایک اننگز میں بیٹنگ ٹیم رنز جمع کرتی ہے، جبکہ باؤلنگ اور فیلڈنگ ٹیم وکٹیں لینے کی کوشش کرتی ہے...

28 اکتوبر، 2026 8 min read
2026 میں کرکٹ کے بنیادی اصول: نئے شائقین کی مکمل رہنمائی

2026 میں کرکٹ کے بنیادی اصول: نئے شائقین کی مکمل رہنمائی

کرکٹ کے بنیادی اصول یہ ہیں کہ دو ٹیمیں، عموماً 11، رنز بنانے اور حریف کو آؤٹ کرنے کے لیے مقابلہ کرتی ہیں۔ ایک اننگز میں بیٹنگ ٹیم رنز جمع کرتی ہے، جبکہ باؤلنگ اور فیلڈنگ ٹیم وکٹیں لینے کی کوشش کرتی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ پانچ دن، ون ڈے 50 اوورز اور ٹی20 عموماً 20 اوورز فی اننگز پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک اوور میں 6 قانونی گیندیں ہوتی ہیں، جبکہ نو بال اور وائیڈ اضافی رنز دیتے ہیں۔ آئی سی سی قوانین اور میریلی بون کرکٹ کلب کی دفعات کھیل کی بنیاد ہیں۔ رن آؤٹ، کیچ، ایل بی ڈبلیو اور بولڈ عام آؤٹ ہونے کے طریقے ہیں۔ میچ سمجھنے کے لیے پہلے اوور، وکٹ، رن ریٹ اور ہدف کا مطلب یاد کریں، پھر اسکور بورڈ پڑھنے کی مشق کریں۔

Chilli Heat · Free demo

کرکٹ کے پانچ بنیادی اصول ایک نظر میں

کرکٹ بظاہر سادہ کھیل ہے: گیند پھینکی جاتی ہے، بلّا چلتا ہے، لوگ شور مچاتے ہیں، اور پھر کوئی نہ کوئی امپائر کے فیصلے پر ناراض ہو جاتا ہے۔ اصل میں کھیل کے چند بنیادی اصول سمجھ آ جائیں تو ٹیسٹ، ون ڈے، ٹی20، پی ایس ایل اور عالمی کپ سب کافی صاف دکھائی دینے لگتے ہیں۔

  1. ٹیم اور کردار: ہر ٹیم میں 11 کھلاڑی ہوتے ہیں؛ بیٹر، باؤلر، وکٹ کیپر اور آل راؤنڈر مختلف ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں۔
  2. رنز اور وکٹیں: بیٹر رنز بناتے ہیں، باؤلر وکٹیں لیتے ہیں، اور فیلڈر غلطی ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔
  3. اوورز: ایک قانونی اوور میں 6 گیندیں ہوتی ہیں؛ وائیڈ اور نو بال اوور کی گنتی میں شامل نہیں ہوتیں۔
  4. فارمیٹ: ٹیسٹ میں پانچ دن تک، ون ڈے میں 50 اوورز اور ٹی20 میں 20 اوورز فی اننگز ہوتے ہیں۔
  5. نتیجہ: زیادہ رنز والی ٹیم جیتتی ہے، یا ہدف مکمل ہونے سے پہلے تمام وکٹیں گنوانے والی ٹیم ہار جاتی ہے۔

A cricket pitch in a packed Lahore stadium, batsman ready, wicketkeeper crouched, evening lights glowing

بیٹنگ نوٹس پر کرکٹ کے بنیادی اصول صرف لغت کی طرح نہیں بلکہ میچ کی صورتحال کے ساتھ سمجھائے جاتے ہیں، کیونکہ صرف اصطلاحیں رٹنے سے آخری اوور میں دماغ پھر بھی بند ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر 180 رنز کے ہدف میں 60 گیندوں پر 72 رنز درکار ہوں تو مطلوبہ رن ریٹ 7.20 فی اوور ہوگا؛ یہ عدد میچ کی رفتار فوراً بتاتا ہے۔ اس کے برعکس 180 رنز بنانے والی ٹیم اگر 20 اوورز میں 7 وکٹیں کھو دے تو اس کا اسکور مضبوط نظر آ سکتا ہے، مگر کمزور اختتام کی نشانی بھی ہو سکتا ہے۔ ابتدائی کرکٹ اصطلاحات کی رہنمائی کھیل دیکھتے وقت اسکور، باقی گیندیں اور باقی وکٹیں ایک ساتھ پڑھیں؛ صرف بڑے چھکے گننا شائقانہ طریقہ ہے، تجزیہ نہیں۔

مزید واضح مثالیں اور میچ کی تشریحات دیکھنے کے لیے یہ اگلا قدم اختیار کریں۔

مزید جانیں

نمبر ایک: میچ کے بنیادی ڈھانچے کو کیسے سمجھیں؟

میچ کا بنیادی ڈھانچہ ٹاس، اننگز، اوورز، وکٹوں اور ہدف پر قائم ہوتا ہے۔ ٹاس جیتنے والا کپتان پہلے بیٹنگ یا باؤلنگ کا انتخاب کرتا ہے، اگرچہ پچ، موسم اور اوس جیسے عوامل اس فیصلے کو بدل سکتے ہیں۔ محدود اوورز کے میچ میں ہر ٹیم کو مقررہ اوورز یا تمام وکٹیں ختم ہونے تک بیٹنگ کا موقع ملتا ہے، جبکہ ٹیسٹ میں ہر ٹیم کو عموماً دو اننگز ملتی ہیں۔

ٹاس اور اننگز

ٹاس کے بعد پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کا مقصد ایسا اسکور بنانا ہے جس کا تعاقب حریف کے لیے مشکل ہو۔ دوسری ٹیم کو ہدف سے ایک رن زیادہ بنانا ہوتا ہے؛ مثال کے طور پر 241 رنز کا ہدف جیتنے کے لیے 242 رنز مانگتا ہے۔ اگر دونوں ٹیموں کے رنز برابر ہوں تو فارمیٹ کے مطابق ٹائی، سپر اوور یا دیگر ضابطہ لاگو ہو سکتا ہے۔

ایک اننگز اس وقت ختم ہوتی ہے جب:

  • مقررہ اوور مکمل ہو جائیں۔
  • بیٹنگ ٹیم کی 10 وکٹیں گر جائیں۔
  • کپتان اننگز ختم کرنے کا اعلان کرے، جو زیادہ تر ٹیسٹ میں دیکھا جاتا ہے۔
  • ہدف حاصل ہو جائے، خاص طور پر ون ڈے اور ٹی20 میں۔

Two captains meeting beside the pitch for a coin toss, umpires watching under cloudy Karachi skies

کھیل کی ایک اہم مگر اکثر نظرانداز کی جانے والی تفصیل یہ ہے کہ بارش کے بعد ڈک ورتھ لوئس اسٹرن طریقہ صرف رنز کو گھٹاتا نہیں؛ یہ دستیاب اوورز اور وکٹوں کے وسائل کے حساب سے نیا ہدف بناتا ہے۔ اسی لیے 10 اوورز باقی ہونے پر 90 رنز کا ہدف ہر میچ میں برابر مشکل نہیں ہوتا۔ آئی سی سی کے کھیل کے قوانین میں بین الاقوامی مقابلوں کے لیے بنیادی ضابطے درج ہیں، جبکہ میریلی بون کرکٹ کلب کے قوانین تکنیکی تعریفوں کا اصل حوالہ ہیں۔ ایم سی سی کی بنیادی سوچ کا خلاصہ یوں ہے: “کرکٹ کے قوانین کھیل کے منصفانہ اور باقاعدہ انعقاد کے لیے ہیں۔” یعنی امپائر کی ہر انگلی دشمنی نہیں، کبھی قانون بھی ہوتا ہے۔

رنز کیسے بنتے ہیں؟

بیٹر دوڑ کر رنز بنا سکتے ہیں، گیند کو باؤنڈری تک پہنچا سکتے ہیں یا اضافی رنز حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر گیند زمین سے ٹکرا کر باؤنڈری پار کرے تو چار رنز ملتے ہیں، جبکہ ہوا میں براہ راست باؤنڈری پار کرنے پر چھ رنز ملتے ہیں۔ دوڑتے ہوئے بیٹر اپنے کریز میں پہنچنے سے پہلے فیلڈر وکٹیں توڑ دے تو رن آؤٹ ہو سکتا ہے؛ یہاں رفتار سے زیادہ فیصلہ کن چیز کریز ہوتی ہے، مگر لوگ ہمیشہ گیند کو دیکھتے رہتے ہیں۔

رنز کی اہم اقسام یہ ہیں:

  • بیٹر کے رنز: بلّے سے حاصل کیے گئے رنز۔
  • وائیڈ: ایسی گیند جو بیٹر کی معمول کی پہنچ سے باہر ہو؛ ایک اضافی رن ملتا ہے۔
  • نو بال: غیر قانونی گیند، جس پر کم از کم ایک اضافی رن اور محدود اوورز میں عموماً فری ہٹ ملتی ہے۔
  • بائی: بیٹر کے جسم یا سامان سے گزرنے والی گیند پر دوڑ کر حاصل کیے گئے رنز۔
  • لیگ بائی: جسم سے لگنے کے بعد دوڑ کر حاصل کیے گئے رنز، بشرطیکہ بیٹر نے گیند کھیلنے کی کوشش کی ہو۔

یہاں ایک عملی نکتہ یاد رکھیں: اسکور کارڈ میں بائی اور لیگ بائی بیٹر کے ذاتی رنز میں شامل نہیں ہوتے، مگر ٹیم کے مجموعے میں شامل رہتے ہیں۔ اسی فرق سے بیٹر کے 47 رنز اور ٹیم کے 51 رنز کا بظاہر عجیب حساب درست ثابت ہوتا ہے۔

نمبر دو: آؤٹ ہونے کے طریقے کون سے ہیں؟

بیٹر 10 بنیادی طریقوں سے آؤٹ ہو سکتا ہے، مگر بین الاقوامی میچوں میں بولڈ، کیچ، ایل بی ڈبلیو، رن آؤٹ اور اسٹمپنگ سب سے زیادہ نظر آتے ہیں۔ آؤٹ کی درست قسم اسکور کارڈ میں درج ہوتی ہے، کیونکہ “کیچ آؤٹ” اور “ایل بی ڈبلیو” صرف رسمی الفاظ نہیں بلکہ مختلف قانونی شرائط رکھتے ہیں۔

عام آؤٹ

  • بولڈ: گیند وکٹوں سے ٹکرا کر کم از کم ایک بیل گرا دے۔
  • کیچ: بلّے سے لگی گیند زمین چھونے سے پہلے فیلڈر پکڑ لے۔
  • ایل بی ڈبلیو: گیند وکٹوں کے راستے میں جسم سے ٹکرائے اور قانونی شرائط پوری ہوں۔
  • رن آؤٹ: بیٹر کریز سے باہر ہو اور فیلڈر وکٹیں توڑ دے۔
  • اسٹمپڈ: وکٹ کیپر بیٹر کے کریز سے باہر ہونے پر گیند سے وکٹیں گرا دے۔
  • ہٹ وکٹ: بیٹر خود اپنے بلّے یا جسم سے وکٹیں گرا دے۔
  • ٹائمڈ آؤٹ: نیا بیٹر مقررہ وقت میں اگلی گیند کے لیے تیار نہ ہو۔
  • آب اسٹرکٹنگ دی فیلڈر: بیٹر جان بوجھ کر فیلڈر کی راہ روکے۔
  • دو بار گیند مارنا: بیٹر قانونی مقصد کے بغیر گیند کو دوسری بار مارے۔
  • ریٹائرڈ آؤٹ: بیٹر بغیر قابل قبول وجہ اننگز چھوڑے اور واپس آنے کی اجازت نہ پائے۔

ایل بی ڈبلیو سب سے زیادہ غلط سمجھا جانے والا قانون ہے۔ گیند کا پیڈ سے لگنا کافی نہیں؛ گیند کا پچ پر کہاں ٹپہ کھانا، وکٹوں کی سمت، بیٹر کا شاٹ کھیلنے کا ارادہ اور گیند کا وکٹوں سے ٹکرانے کا امکان سب اہم ہوتے ہیں۔ اسی لیے ڈی آر ایس کا بال ٹریکنگ گراف فیصلہ دکھاتا ہے، مگر وہ امپائر کے ہر سوال کا جادوئی جواب نہیں ہے۔ ایل بی ڈبلیو اور ڈی آر ایس کی تفصیلی وضاحت

اس حصے کو سمجھنے کے بعد اگلا قدم اسکور کارڈ میں آؤٹ کی درست قسم پہچاننا ہے۔

مزید جانیں

نمبر تین: باؤلنگ، اوور اور فیلڈنگ کیسے کام کرتی ہے؟

ایک قانونی اوور میں چھ گیندیں شامل ہوتی ہیں، مگر وائیڈ اور نو بال دوبارہ پھینکی جاتی ہیں اور اوور کی چھ گیندوں میں شمار نہیں ہوتیں۔ باؤلر کا رن اپ، بازو کا زاویہ، رفتار اور گیند کا رخ بیٹر کے لیے مسئلہ پیدا کرتے ہیں، لیکن قانون باؤلر کو ہر حرکت کی آزادی نہیں دیتا۔ فرنٹ فٹ نو بال، خطرناک باؤنسر اور فیلڈنگ کی پابندیاں میچ کے نتیجے پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔

باؤلنگ کی اقسام

  • فاسٹ باؤلنگ: رفتار، سوئنگ، سیم اور باؤنس پر انحصار۔
  • میڈیم پیس: رفتار سے زیادہ لائن، لینتھ اور تبدیلیوں کا استعمال۔
  • اسپن باؤلنگ: گیند کے گھومنے، رفتار گھٹانے اور بیٹر کو غلط شاٹ پر مجبور کرنے کی کوشش۔
  • آف اسپن اور لیگ اسپن: دائیں ہاتھ کے بیٹر کے خلاف گیند کے مختلف رخ اختیار کرتے ہیں۔
  • یارکر: بیٹر کے پیروں کے قریب پچ ہونے والی گیند۔
  • باؤنسر: بیٹر کے سر یا کندھے کی بلندی کی طرف جانے والی مختصر گیند۔

فیلڈنگ میں کپتان کھلاڑیوں کو وکٹ، باؤنڈری اور بیٹر کے شاٹ کے مطابق جگہ دیتا ہے۔ ون ڈے اور ٹی20 میں پاور پلے کے دوران 30 گز کے دائرے سے باہر فیلڈرز کی تعداد محدود ہوتی ہے؛ درست حد مقابلے کے ضابطے اور مرحلے پر منحصر ہو سکتی ہے، اس لیے ہر فارمیٹ کو ایک ہی اصول سے نہ ناپیں۔ یہ وہ معمولی سا فرق ہے جو ٹی وی پر نظر نہیں آتا مگر کپتان کے منصوبے کو بدل دیتا ہے۔

Cricket coach pointing at a tactical fielding map beside a green practice wicket, players listening carefully

باؤلنگ کے اعداد پڑھنے کا آسان طریقہ بھی یاد رکھیں: 4 اوورز، 28 رنز اور 2 وکٹیں دینے والے باؤلر کے اعداد 7.00 رنز فی اوور کا اکانومی ریٹ بتاتے ہیں۔ دوسری طرف 4 اوورز میں 40 رنز اور 3 وکٹیں زیادہ جارحانہ مگر مؤثر کارکردگی ہو سکتی ہیں، خاص طور پر ٹی20 میں۔ اس لیے صرف اکانومی یا صرف وکٹوں سے فیصلہ کرنا ادھورا ہے؛ وکٹ کا وقت، بیٹر کی سطح اور میچ کی صورتحال بھی دیکھیں۔ باؤلنگ حکمت عملی اور فیلڈ سیٹنگ پی ایس ایل میں لاہور قلندرز، ملتان سلطانز اور کراچی کنگز جیسے مقابلوں کے دوران یہی اصول مختلف پچوں پر مختلف نتیجہ دیتے ہیں۔

نمبر چار: ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 میں کیا فرق ہے؟

ٹیسٹ کرکٹ میں وقت سب سے بڑا وسیلہ ہے، ون ڈے میں 50 اوورز کی حد فیصلہ کن ہے، جبکہ ٹی20 میں 20 اوورز کی رفتار سب سے اہم ہوتی ہے۔ تینوں فارمیٹس میں رنز، وکٹ، کیچ اور اوور کے بنیادی قوانین مشترک رہتے ہیں، لیکن اننگز کی تعداد، فیلڈنگ پابندیاں، حکمت عملی اور خطرہ لینے کی سطح بدل جاتی ہے۔

فارمیٹ فی ٹیم اوورز اننگز عام مدت نمایاں حکمت عملی
ٹیسٹ مقررہ حد نہیں عموماً 2 پانچ دن تک صبر، ریورس سوئنگ، اسپن
ون ڈے 50 1 تقریباً ایک دن مرحلہ وار رن ریٹ
ٹی20 20 1 تقریباً تین گھنٹے تیز رنز، میچ اپ، ڈیتھ باؤلنگ

ٹیسٹ میں فالو آن کا امکان موجود ہوتا ہے، یعنی اگر پہلی اننگز میں ایک ٹیم بہت پیچھے رہ جائے تو دوسری ٹیم اسے دوبارہ بیٹنگ پر بھیج سکتی ہے، بشرطیکہ مطلوبہ رنز کا فرق اور مقابلے کے حالات اس کی اجازت دیں۔ ون ڈے میں بارش کے باعث اوور کم ہوں تو ہدف تبدیل ہو سکتا ہے، جبکہ ٹی20 میں پانچ گیندوں کی ایک خراب گیند بھی پورا منصوبہ برباد کر دیتی ہے۔ آئی سی سی کرکٹ کی تاریخ اور قوانین میں ان فارمیٹس کی عالمی سطح پر وضاحت ملتی ہے۔

یہاں ایک غیر مقبول مگر درست نتیجہ ہے: بہترین ٹی20 ٹیم لازماً بہترین ٹیسٹ ٹیم نہیں ہوتی۔ بھارت کی ٹی20 جارحیت، پاکستان کی سوئنگ باؤلنگ، آسٹریلیا کی ٹیسٹ منصوبہ بندی اور انگلینڈ کا محدود اوورز کا انداز الگ تقاضے رکھتے ہیں۔ کھلاڑی کا نام نہیں، فارمیٹ کے مطابق اس کا کردار اصل چیز ہے۔

اپنے پسندیدہ فارمیٹ کو اعداد کے ساتھ سمجھنے کے لیے یہ مختصر حوالہ دیکھیں۔

مزید جانیں

نمبر پانچ: امپائر، ڈی آر ایس اور اسکور کارڈ کیسے پڑھیں؟

امپائر میدان میں فیصلے نافذ کرتا ہے، جبکہ ڈی آر ایس محدود حالات میں آن فیلڈ فیصلے کا جائزہ لینے دیتا ہے۔ اسکور کارڈ بیٹر کے رنز، گیندوں، باؤنڈریز، باؤلر کے اوورز، رنز اور وکٹوں کو ایک جگہ دکھاتا ہے۔ ڈی آر ایس کا نتیجہ “امپائرز کال” بھی ہو سکتا ہے، جس میں اصل فیصلہ برقرار رہتا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کا ثبوت مکمل طور پر فیصلہ بدلنے کی حد تک نہیں پہنچا۔

اسکور کارڈ پر یہ چیزیں ضرور دیکھیں:

  • بیٹر: رنز، گیندیں، چوکے، چھکے اور اسٹرائیک ریٹ۔
  • باؤلر: اوور، میڈن، رنز، وکٹیں اور اکانومی۔
  • اضافی رنز: وائیڈ، نو بال، بائی اور لیگ بائی۔
  • ٹیم اسکور: مجموعی رنز، وکٹیں اور اوورز۔
  • مطلوبہ رن ریٹ: باقی ہدف کو باقی اوورز سے تقسیم کرنے کا نتیجہ۔
  • شراکت داری: دو بیٹرز کے درمیان بنائے گئے رنز۔

اسٹرائیک ریٹ کا فارمولا رنز کو گیندوں سے تقسیم کر کے 100 سے ضرب دینا ہے۔ 60 رنز 40 گیندوں پر ہوں تو اسٹرائیک ریٹ 150 بنتا ہے، مگر یہ عدد پچ، اننگز کے مرحلے اور مخالف باؤلنگ کے بغیر ادھورا ہے۔ اسی طرح پانچ وکٹیں لینے والا باؤلر اگر 75 رنز بھی دے چکا ہو تو کارکردگی کا مطلب میچ کے سیاق سے نکلے گا، کسی ایک خانے سے نہیں۔

Television replay showing DRS ball-tracking beside an umpire and packed cricket crowd in Islamabad

ٹیکنالوجی کے بارے میں ایک عملی احتیاط یہ ہے کہ ہر لیگ یا ٹورنامنٹ میں ڈی آر ایس کی سہولت، ریویو کی تعداد اور دستیاب نظام ایک جیسے نہیں ہوتے۔ آئی سی سی کے بڑے مقابلوں میں ہاک آئی، الٹرا ایج اور ریویو پروٹوکول شامل ہو سکتے ہیں، مگر مقامی مقابلے میں صرف ٹی وی ری پلے دستیاب ہو سکتا ہے۔ اس لیے “ڈی آر ایس نے غلطی کی” کہنے سے پہلے دیکھیں کہ فیصلہ بال ٹریکنگ، کنارے کے ثبوت یا امپائرز کال پر قائم تھا۔

آپ کے لیے کون سا بنیادی طریقہ بہتر ہے؟

نئے شائقین کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ پہلے اسکور کارڈ پڑھنا، پھر اوور اور رن ریٹ سمجھنا، اور آخر میں آؤٹ کے قوانین سیکھنا شروع کریں۔ اگر آپ ٹی20 دیکھتے ہیں تو مطلوبہ رن ریٹ، ڈیتھ اوورز اور وکٹیں اہم ہیں؛ ٹیسٹ کے لیے سیشن، فالو آن، ڈکلیئریشن اور پچ کی حالت زیادہ معنی رکھتی ہے۔

سیکھنے کی ترتیب یہ رکھیں:

  1. ٹیم میں 11 کھلاڑی اور ان کے کردار یاد کریں۔
  2. قانونی اوور کی 6 گیندیں اور اضافی رنز سمجھیں۔
  3. بولڈ، کیچ، ایل بی ڈبلیو، رن آؤٹ اور اسٹمپنگ الگ الگ پہچانیں۔
  4. اسکور کارڈ سے رنز، وکٹیں، اوور اور رن ریٹ پڑھیں۔
  5. ایک ہی میچ کو ٹی20، ون ڈے اور ٹیسٹ کی حکمت عملی کے فرق سے دیکھیں۔
  6. امپائر کے فیصلے پر رائے دینے سے پہلے متعلقہ قانون دیکھیں؛ شور ہمیشہ دلیل نہیں ہوتا۔

بیٹنگ نوٹس پر پی ایس ایل، آئی سی سی عالمی کپ، پاکستان، بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے میچوں کی مثالوں سے یہی بنیادی ڈھانچہ سمجھا جا سکتا ہے۔ مقصد شرط لگانے یا جذباتی اندازہ لگانے کے بجائے کھیل کو درست پڑھنا ہونا چاہیے؛ اعداد کو سمجھنے والا شائق اکثر آخری اوور سے پہلے کہانی دیکھ لیتا ہے۔

نتیجہ صاف ہے: کرکٹ کے بنیادی اصول رٹنے کی چیز نہیں، میچ کے ہر مرحلے میں استعمال ہونے والا نقشہ ہیں۔ پہلے رنز، اوور اور وکٹ سمجھیں، پھر فارمیٹ، فیلڈنگ اور ڈی آر ایس شامل کریں۔ اس ترتیب پر چلیں تو اسکور بورڈ شور نہیں بلکہ قابل فہم معلومات بن جاتا ہے۔

مزید کرکٹ تجزیہ اور روزانہ کی بصیرت کے لیے بیٹنگ نوٹس سے جڑے رہیں۔

مزید جانیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کرکٹ کے بنیادی اصول کیا ہیں؟

جواب: کرکٹ میں دو ٹیمیں عموماً 11، رنز بنانے اور حریف کی وکٹیں لینے کے لیے مقابلہ کرتی ہیں۔ بیٹنگ ٹیم رنز بناتی ہے، باؤلنگ ٹیم قانونی گیندیں کراتی اور فیلڈنگ کے ذریعے آؤٹ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 میں اوورز اور اننگز کی تعداد مختلف ہوتی ہے، مگر رنز، وکٹ اور ہدف کا بنیادی تصور ایک جیسا رہتا ہے۔

سوال: ایک اوور میں کتنی گیندیں ہوتی ہیں؟

جواب: ایک قانونی اوور میں 6 گیندیں ہوتی ہیں۔ وائیڈ اور نو بال قانونی گیندیں نہیں ہوتیں، اس لیے انہیں دوبارہ پھینکا جاتا ہے اور اوور کی چھ گیندوں میں شمار نہیں کیا جاتا۔ اگر باؤلر 6 قانونی گیندوں کے ساتھ دو وائیڈ کرائے تو اوور میں 8 گیندیں پھینکی جا سکتی ہیں، مگر قانونی گنتی پھر بھی 6 ہی رہے گی۔

سوال: کرکٹ میں رن آؤٹ اور اسٹمپنگ میں کیا فرق ہے؟

جواب: رن آؤٹ میں کوئی بھی فیلڈر، وکٹ کیپر سمیت، بیٹر کے کریز سے باہر ہونے پر وکٹیں توڑ سکتا ہے۔ اسٹمپنگ عموماً وکٹ کیپر کرتا ہے جب بیٹر شاٹ کھیلنے کے لیے کریز سے باہر نکلے اور واپس نہ پہنچ سکے۔ رن آؤٹ دوڑ یا رن مکمل کرنے کی کوشش سے جڑا ہوتا ہے، جبکہ اسٹمپنگ میں عام طور پر گیند کھیلنے کی صورتحال اہم ہوتی ہے۔

سوال: کرکٹ میچ میں رن ریٹ کیسے نکالتے ہیں؟

جواب: رن ریٹ نکالنے کے لیے بنائے گئے رنز کو کھیلے گئے اوورز سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ 120 رنز 20 اوورز میں ہوں تو رن ریٹ 6.00 فی اوور ہوگا، جبکہ ہدف کا مطلوبہ رن ریٹ باقی رنز کو باقی اوورز سے تقسیم کر کے نکالا جاتا ہے۔ اسکور کارڈ میں اوور کے حصے کو اعشاریہ سمجھنے کی غلطی نہ کریں؛ 17.3 اوور دراصل 17 اوور اور 3 گیندیں ہیں، 17.3 مکمل اوور نہیں۔

سوال: ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہونے کے لیے کون سی شرطیں ضروری ہیں؟

جواب: ایل بی ڈبلیو کے لیے گیند کا قانونی طور پر پچ پر لگنا، بیٹر کے جسم سے ٹکرانا اور وکٹوں کو لگنے کا امکان بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔ گیند کا پچ پر کہاں پڑنا، بیٹر کا شاٹ کھیلنے کا ارادہ، آف اسٹمپ کے باہر پچ ہونا اور گیند کا وکٹوں تک پہنچنا فیصلہ بدل سکتے ہیں۔ اسی لیے ہر پیڈ لگنے والی گیند ایل بی ڈبلیو نہیں ہوتی۔

سوال: ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 میں بنیادی فرق کیا ہے؟

جواب: ٹیسٹ کرکٹ پانچ دن تک اور عموماً دو اننگز پر مشتمل ہوتی ہے، ون ڈے میں ہر ٹیم کو 50 اوورز اور ٹی20 میں 20 اوورز ملتے ہیں۔ ٹیسٹ میں صبر اور وکٹ بچانا اہم ہے، ون ڈے میں اننگز کے مختلف مراحل اہم ہوتے ہیں، جبکہ ٹی20 میں تیز رنز اور کم وقت میں وکٹیں لینا فیصلہ کن بن جاتا ہے۔ اسی لیے ایک ہی کھلاڑی کی کارکردگی فارمیٹ کے لحاظ سے بدل سکتی ہے۔

سوال: کرکٹ کے بنیادی اصول مفت میں کیسے سیکھے جا سکتے ہیں؟

جواب: کرکٹ کے بنیادی اصول مفت میں آئی سی سی، میریلی بون کرکٹ کلب، بیٹنگ نوٹس اور معتبر اسکور کارڈز سے سیکھے جا سکتے ہیں۔ پہلے قوانین کی مختصر فہرست پڑھیں، پھر ایک ٹی20 میچ میں اوور، وکٹ اور مطلوبہ رن ریٹ نوٹ کریں۔ اس کے بعد ٹیسٹ یا ون ڈے دیکھ کر فالو آن، ڈکلیئریشن اور ڈک ورتھ لوئس اسٹرن جیسے نسبتاً مشکل تصورات شامل کریں۔

§

پڑھنے کے لیے شکریہ

بیٹنگ نوٹس · Editorial Archive · 2026

متعلقہ مضامین