2026 میں عمل سے پہلے پاور پلے قوانین پڑھیں
کرکٹ میں پاور پلے کے قوانین فارمیٹ کے مطابق فیلڈنگ دائرے سے باہر موجود فیلڈرز کی تعداد محدود کرتے ہیں۔ ون ڈے کرکٹ میں پہلے 10 اوورز کے دوران زیادہ سے زیادہ 2 فیلڈرز 30 گز کے دائرے سے باہر رہ سکتے ہیں،...
2026 میں عمل سے پہلے پاور پلے قوانین پڑھیں
کرکٹ میں پاور پلے کے قوانین فارمیٹ کے مطابق فیلڈنگ دائرے سے باہر موجود فیلڈرز کی تعداد محدود کرتے ہیں۔ ون ڈے کرکٹ میں پہلے 10 اوورز کے دوران زیادہ سے زیادہ 2 فیلڈرز 30 گز کے دائرے سے باہر رہ سکتے ہیں، جبکہ اوور 11 سے 40 تک یہ حد 4 اور آخری 10 اوورز میں 5 ہو جاتی ہے۔ ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچ میں پہلے 6 اوورز کا پاور پلے ہوتا ہے، جس میں صرف 2 فیلڈرز دائرے سے باہر کھڑے ہو سکتے ہیں؛ اس کے بعد زیادہ سے زیادہ 5 فیلڈرز باہر رہ سکتے ہیں۔ یہ پابندیاں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور متعلقہ مقابلے کی شرائط طے کرتی ہیں، محض کسی کمنٹیٹر کی پسند نہیں۔ بارش سے متاثرہ میچ میں پاور پلے کا دورانیہ بدل سکتا ہے۔ میچ دیکھتے وقت پہلے فارمیٹ، مقررہ اوورز اور فیلڈرز کی تعداد نوٹ کریں، ورنہ اسکور بورڈ آپ کو آسانی سے دھوکا دے گا۔

اصل بات: پاور پلے کے قوانین کیا ہیں؟
پاور پلے فیلڈنگ کی وہ مدت ہے جس میں ٹیم کو 30 گز کے دائرے سے باہر فیلڈرز رکھنے کی اجازت محدود ہوتی ہے۔ اس کا مقصد بلے باز کو ابتدائی اوورز میں زیادہ رنز بنانے کا موقع دینا اور میچ کی رفتار تیز رکھنا ہے، اگرچہ گیند باز عموماً اسے “آسان موقع” نہیں سمجھتے۔
ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں بنیادی فرق یاد رکھیں:
- ٹی ٹوئنٹی میں پہلے 6 اوورز پاور پلے ہوتے ہیں۔
- ون ڈے میں پہلے 10 اوورز پاور پلے ہوتے ہیں۔
- ٹی ٹوئنٹی کے پہلے 6 اوورز میں زیادہ سے زیادہ 2 فیلڈرز دائرے سے باہر ہو سکتے ہیں۔
- ون ڈے کے پہلے 10 اوورز میں بھی زیادہ سے زیادہ 2 فیلڈرز باہر رہ سکتے ہیں۔
- پاور پلے ختم ہونے کے بعد ٹی ٹوئنٹی میں 5 اور ون ڈے میں مرحلے کے حساب سے 4 یا 5 فیلڈرز باہر کھڑے ہو سکتے ہیں۔
[بیٹنگ نوٹس] کرکٹ کے میچ جائزوں، پی ایس ایل کوریج، کھلاڑیوں کے اعداد و شمار اور بیٹنگ و باؤلنگ حکمتِ عملی کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔ اصل فرق یہ ہے کہ پاور پلے کو صرف “چھ اوورز میں چھکے” سمجھنا کمزور تجزیہ ہے؛ فیلڈ کی پابندی، وکٹ کا خطرہ اور گیند کی حرکت تینوں ساتھ دیکھنے پڑتے ہیں۔
اس بنیادی نقشے کو محفوظ کرلیں، کیونکہ اکثر ناظرین ٹی ٹوئنٹی کا قانون ون ڈے پر لگا دیتے ہیں، پھر امپائر کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ International Cricket Council کے کھیلنے کے ضوابط میں فارمیٹ کے مطابق یہی پابندیاں تفصیل سے دی جاتی ہیں۔
مزید واضح مثالیں دیکھنے کے لیے یہ رہنمائی بھی پڑھیں: کرکٹ کے بنیادی قوانین
مزید تفصیل اور روزانہ کرکٹ بصیرت کے لیے یہیں سے آغاز کریں۔
کھلاڑی میدان میں حقیقتاً کیا دیکھتے ہیں؟
پاور پلے میں کھلاڑی صرف دائرے کے اندر اور باہر کی گنتی نہیں کرتے؛ وہ پچ، گیند، بیٹر کے انداز اور اسکور کی رفتار کو بھی پڑھتے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی کے پہلے 6 اوورز میں کپتان کے پاس باہر رکھنے کے لیے صرف 2 فیلڈرز ہوتے ہیں، اس لیے کور، مڈ آف، مڈ آن اور اسکوائر کے قریب خلا اکثر نمایاں ہو جاتا ہے۔ اگر بیٹر نئی گیند کو کور کے اوپر کھیلنے میں ماہر ہو تو کپتان کے پاس فیلڈ پھیلانے کی گنجائش نہیں رہتی، اور یہی پاور پلے کا اصل دباؤ ہے۔
ون ڈے میں پہلے 10 اوورز کے بعد صورتِ حال بدلتی ہے۔ اوور 11 سے 40 تک 4 فیلڈرز دائرے سے باہر ہو سکتے ہیں، جس سے سنگل روکنے اور باؤنڈری بچانے کا توازن بنانا ممکن ہوتا ہے۔ آخری 10 اوورز، یعنی اوور 41 سے 50، میں 5 فیلڈرز باہر رہ سکتے ہیں؛ اس مرحلے میں یارکر، سلو گیند اور باؤنڈری لائن کے محافظ زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔ 2015 کے بعد ون ڈے میں بیٹنگ پاور پلے ختم کیا گیا، اس لیے کپتان اب خود سے اضافی پاور پلے طلب نہیں کر سکتا۔ پرانی معلومات کے سہارے میچ سمجھنے کی کوشش نہ کریں، وہ کشتی اب دریا میں نہیں ہے۔

ٹی ٹوئنٹی میں پاور پلے ختم ہوتے ہی زیادہ سے زیادہ 5 فیلڈرز باہر رکھنے کی اجازت ملتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ کپتان فوراً پانچوں کو باؤنڈری پر بھیج دے۔ اگر گیند سوئنگ کر رہی ہو تو سلپ یا شارٹ تھرڈ رکھنا باؤنڈری روکنے سے زیادہ قیمتی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح بیٹر اگر 6 اوورز میں 55 رنز بنا چکا ہو مگر 3 وکٹیں بھی گر چکی ہوں تو صرف رنز کی رفتار دیکھنا بے وقوفی ہے۔ ESPNcricinfo کے اسکور کارڈز میں پاور پلے کے بعد اسکور، وکٹ اور مطلوبہ رن ریٹ کو ایک ساتھ پڑھنا سیکھیں۔
ایک عملی مشاہدہ یہ ہے کہ پاور پلے میں صرف فیلڈنگ پابندی نہیں، “وکٹ کی قیمت” بھی فیصلہ کرتی ہے۔ گہری فیلڈ نہ ہونے کے باعث غلط شاٹ باؤنڈری بن سکتا ہے، مگر اسی وجہ سے جارحانہ بیٹنگ سے کیچ کا امکان بھی بڑھتا ہے۔ اچھا تجزیہ دونوں امکانات لکھتا ہے؛ کمزور تجزیہ صرف چھکے گنتا ہے۔
کون سی تین چیزیں سب سے زیادہ اہم ہیں؟
پاور پلے کو درست سمجھنے کے لیے تین چیزیں بنیادی ہیں: اوورز کا مرحلہ، دائرے سے باہر فیلڈرز کی قانونی تعداد، اور کھیل کی صورتِ حال۔ ان میں سے ایک بھی نظر انداز ہو تو آپ کی حکمتِ عملی ادھوری رہتی ہے۔ آئی سی سی، پاکستان کرکٹ بورڈ اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ جیسے ادارے مقابلے کی مخصوص شرائط میں معمولی تبدیلیاں کر سکتے ہیں، اس لیے ٹورنامنٹ کی دستاویز دیکھنا ہمیشہ بہتر ہے۔
1۔ اوورز اور فارمیٹ
ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچ میں اوور 1 سے 6 تک ابتدائی پاور پلے چلتا ہے۔ ون ڈے میں اوور 1 سے 10 تک یہی پابندی رہتی ہے۔ اگر میچ 50 اوورز کے بجائے بارش کے باعث 20 یا 25 اوورز کا رہ جائے تو پاور پلے کا حساب مقررہ کھیلنے کی شرائط کے تحت دوبارہ کیا جا سکتا ہے؛ یہ ہر بار خودکار طور پر “پہلے 10 اوورز” نہیں رہتا۔
2۔ فیلڈرز کی قانونی حد
- ٹی ٹوئنٹی پاور پلے: زیادہ سے زیادہ 2 فیلڈرز دائرے سے باہر۔
- ٹی ٹوئنٹی پاور پلے کے بعد: زیادہ سے زیادہ 5 فیلڈرز باہر۔
- ون ڈے اوور 1 تا 10: زیادہ سے زیادہ 2 فیلڈرز باہر۔
- ون ڈے اوور 11 تا 40: زیادہ سے زیادہ 4 فیلڈرز باہر۔
- ون ڈے اوور 41 تا 50: زیادہ سے زیادہ 5 فیلڈرز باہر۔
یہ حد وکٹ کیپر اور بولر کے قانونی مقام کے علاوہ باقی فیلڈرز کی پوزیشن پر لاگو ہوتی ہے۔ دائرہ چھوٹا دکھائی دے سکتا ہے، مگر امپائر کے لیے اس کی لکیر معمولی بات نہیں۔
3۔ رن ریٹ اور وکٹ کا توازن
پاور پلے میں 9 رنز فی اوور کی رفتار ہمیشہ کامیابی نہیں ہوتی، خاص طور پر اگر 4 وکٹیں بھی گر جائیں۔ دوسری طرف 7 رنز فی اوور کا محتاط آغاز ٹی ٹوئنٹی میں مناسب ہو سکتا ہے اگر وکٹ بیٹنگ کے لیے مشکل ہو اور بیٹنگ لائن اپ آخری اوورز تک مضبوط ہو۔ پی ایس ایل، بگ بیش لیگ اور انڈین پریمیئر لیگ میں یہی فرق بار بار نظر آتا ہے: فیلڈ پابندی ایک جیسی ہو سکتی ہے، مگر پچ اور کھلاڑیوں کی مہارت نتیجہ بدل دیتی ہے۔
بیٹنگ کے لیے مفید اشارے:
- پہلی 12 گیندوں میں سوئنگ اور سیم کی حرکت دیکھیں۔
- کور اور مڈ آف کے درمیان خلا ہو تو سنگل کے ساتھ خطرہ ناپیں۔
- تیسری یا چوتھی وکٹ کے بعد صرف باؤنڈری نہیں، اسٹرائیک گھمانے پر توجہ دیں۔
- پاور پلے ختم ہونے سے پہلے اگلے مرحلے کی فیلڈ کو ذہن میں رکھیں۔
اسی طرح بولنگ ٹیم کو ہر گیند پر نئی فیلڈ لگانے کے بجائے بیٹر کے مضبوط شاٹ کے مطابق منصوبہ بنانا چاہیے۔ یہ کوئی ویڈیو گیم نہیں جہاں ہر گیند پر جادوئی بٹن دبے اور مسئلہ ختم ہو جائے۔
اپنی حکمتِ عملی کو مزید بہتر بنانے کے لیے یہ متعلقہ مواد دیکھیں: ٹی ٹوئنٹی بیٹنگ حکمتِ عملی
اعداد و شمار کو میدان کی حقیقت سے جوڑنے کے لیے یہ مختصر رہنمائی دیکھیں۔
غیر معمولی صورتیں اور چھپے ہوئے مسائل
بارش، کم اوورز، سست اوور ریٹ اور فیلڈنگ کی غلط پوزیشن پاور پلے کے عام مگر نظر انداز کیے جانے والے مسائل ہیں۔ بارش سے متاثرہ میچ میں ڈک ورتھ لوئس اسٹرن طریقہ ہدف بدل سکتا ہے، مگر پاور پلے کی تفصیل مقابلے کی شرائط سے طے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر 50 اوورز کا ون ڈے 30 اوورز تک محدود ہو جائے تو پہلے 10 اوورز کا معمول برقرار رہے گا یا نہیں، یہ متعلقہ کھیلنے کے ضابطے پر منحصر ہے، اندازے پر نہیں۔
فیلڈنگ کی خلاف ورزی بھی اہم ہے۔ اگر مقررہ حد سے زیادہ فیلڈرز دائرے سے باہر ہوں تو امپائر گیند کو نو بال قرار دے سکتا ہے، اور بیٹنگ ٹیم کو ایک اضافی رن کے ساتھ فری ہٹ بھی مل سکتی ہے، اگر ضابطے میں فری ہٹ لاگو ہو۔ آئی سی سی کے کھیلنے کے ضوابط کا بنیادی اصول یوں بیان کیا جاتا ہے: “فیلڈنگ کی پابندی کی خلاف ورزی پر نو بال دی جا سکتی ہے۔” اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مشتبہ پوزیشن لازماً خلاف ورزی ہے؛ امپائر گیند پھینکے جانے کے لمحے فیلڈ کی قانونی ترتیب دیکھتا ہے۔

ایک کم معروف نکتہ یہ ہے کہ سست اوور ریٹ کی سزا اور پاور پلے کی فیلڈنگ پابندی الگ معاملات ہیں۔ اگر پاکستان یا بھارت کی ٹیم مقررہ وقت میں اوور مکمل نہ کرے تو اضافی فیلڈر دائرے کے اندر لانے کی سزا لگ سکتی ہے، مگر اس سے اس مخصوص اوور کا پاور پلے مرحلہ تبدیل نہیں ہوتا۔ 2023 کے بعد کئی بین الاقوامی مقابلوں میں وقت کی پابندی اور اندرونی دائرے کی اضافی فیلڈنگ کو میچ حکام سختی سے دیکھتے رہے ہیں، اس لیے کپتان کو گھڑی بھی پڑھنی پڑتی ہے اور پچ بھی۔
چند عام غلط فہمیاں:
- پاور پلے میں ہر گیند پر صرف دو فیلڈرز باہر نہیں ہوتے؛ یہ زیادہ سے زیادہ حد ہے۔
- بیٹنگ پاور پلے اب ون ڈے کا فعال اصول نہیں ہے۔
- پاور پلے ختم ہونے کے بعد ہر فیلڈر باؤنڈری پر لگانا لازمی نہیں۔
- 30 گز کا دائرہ دیکھنے میں ایک جیسا ہو سکتا ہے، مگر گراؤنڈ کی پیمائش اور مقابلے کی شرائط اثر ڈالتی ہیں۔
- ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کے قوانین کو ایک ہی جدول میں ملا دینا تجزیے کی بنیادی غلطی ہے۔
کپتانوں کے فیصلوں کو سمجھنے کے لیے یہ مواد بھی مفید ہے: کرکٹ میں فیلڈ سیٹنگ کے اصول
حتمی نتیجے سے پہلے ان باریک نکات کو ذہن میں رکھیں، کیونکہ میچ اکثر انہی پر پھسلتا ہے۔
فیصلہ: پاور پلے کو کیسے سمجھیں؟
پاور پلے کے قوانین کا سیدھا خلاصہ یہ ہے کہ ٹی ٹوئنٹی میں پہلے 6 اوورز کے دوران 2 فیلڈرز اور ون ڈے میں پہلے 10 اوورز کے دوران 2 فیلڈرز دائرے سے باہر رہ سکتے ہیں؛ بعد کے مراحل میں یہ حد فارمیٹ کے مطابق 4 یا 5 ہو جاتی ہے۔ لیکن صرف تعداد یاد کرنا کافی نہیں، کیونکہ بارش، کم اوورز، سست اوور ریٹ اور مخصوص ٹورنامنٹ کی شرائط نتیجہ بدل سکتی ہیں۔
میچ دیکھتے وقت یہ چار سوال پوچھیں:
- فارمیٹ ٹی ٹوئنٹی ہے یا ون ڈے؟
- موجودہ اوور پاور پلے کے کس مرحلے میں ہے؟
- کتنے فیلڈرز دائرے سے باہر قانونی طور پر موجود ہیں؟
- رنز کے مقابلے میں وکٹ کا خطرہ کتنا ہے؟
[بیٹنگ نوٹس] پر میچ جائزہ پڑھتے وقت اسکور کے ساتھ پاور پلے کے اعداد بھی دیکھیں، خاص طور پر پہلے 6 یا 10 اوورز کے رنز، وکٹیں اور باؤنڈری کا تناسب۔ یہی اعداد بتاتے ہیں کہ ٹیم نے پابندی کا فائدہ اٹھایا یا صرف شور پیدا کیا۔ MCC کے کرکٹ قوانین بنیادی قانون اور اصطلاحات کا مستند حوالہ فراہم کرتے ہیں، جبکہ حتمی اطلاق ہمیشہ متعلقہ مقابلے کی شرائط سے ہوگا۔
مزید کرکٹ تجزیوں اور تازہ حکمتِ عملی کے لیے یہ اگلا قدم ہے۔
عام سوالات
سوال: پاور پلے کیا ہوتا ہے؟
جواب: پاور پلے کرکٹ کا وہ مرحلہ ہے جس میں فیلڈنگ ٹیم کو 30 گز کے دائرے سے باہر فیلڈرز رکھنے کی محدود اجازت ہوتی ہے۔ ٹی ٹوئنٹی میں یہ مرحلہ عام طور پر پہلے 6 اوورز اور ون ڈے میں پہلے 10 اوورز تک رہتا ہے۔ اس قانون کا مقصد بیٹر کو ابتدائی اوورز میں زیادہ خلا دینا اور میچ کی رفتار بڑھانا ہے۔ حتمی تفصیل آئی سی سی یا متعلقہ ٹورنامنٹ کی کھیلنے کی شرائط سے دیکھی جاتی ہے۔
سوال: ٹی ٹوئنٹی پاور پلے میں کتنے فیلڈرز باہر ہو سکتے ہیں؟
جواب: ٹی ٹوئنٹی پاور پلے کے دوران زیادہ سے زیادہ 2 فیلڈرز 30 گز کے دائرے سے باہر رہ سکتے ہیں۔ یہ پابندی عام طور پر پہلے 6 اوورز پر لاگو ہوتی ہے، جبکہ اس کے بعد 5 فیلڈرز باہر رکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اگر بارش سے میچ کم اوورز کا ہو جائے تو پاور پلے کی مدت متعلقہ مقابلے کے ضابطے کے مطابق بدل سکتی ہے، اس لیے صرف عام فارمولے پر انحصار نہ کریں۔
سوال: ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی پاور پلے میں کیا فرق ہے؟
جواب: ون ڈے میں ابتدائی پاور پلے پہلے 10 اوورز کا ہوتا ہے، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں یہ پہلے 6 اوورز تک رہتا ہے۔ ون ڈے میں اوور 11 سے 40 تک زیادہ سے زیادہ 4 اور آخری 10 اوورز میں 5 فیلڈرز باہر ہو سکتے ہیں، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں پاور پلے کے بعد حد عام طور پر 5 ہے۔ ون ڈے کا الگ بیٹنگ پاور پلے 2015 کے بعد ختم ہو چکا ہے۔
سوال: پاور پلے میں فیلڈنگ کی حد ٹوٹ جائے تو کیا ہوتا ہے؟
جواب: فیلڈنگ کی مقررہ حد ٹوٹنے پر امپائر نو بال دے سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اضافی رن اور بعض حالات میں فری ہٹ بھی مل سکتی ہے، مگر فیصلہ گیند پھینکے جانے کے لمحے کی فیلڈ پوزیشن اور مقابلے کے ضابطے کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لیے ہر دائرے سے باہر کھڑے فیلڈر کو خودکار طور پر خلاف ورزی سمجھنا درست نہیں۔
سوال: بارش سے متاثرہ میچ میں پاور پلے کیسے بدلتا ہے؟
جواب: بارش سے اوورز کم ہونے پر پاور پلے کا دورانیہ متعلقہ کھیلنے کی شرائط کے مطابق دوبارہ مقرر کیا جا سکتا ہے۔ ڈک ورتھ لوئس اسٹرن طریقہ ہدف ضرور بدلتا ہے، مگر پاور پلے کی فیلڈنگ حد مقابلے کے ضابطے سے طے ہوتی ہے۔ میچ دیکھتے وقت اسکور بورڈ، امپائر کے اعلان اور ٹورنامنٹ کی شرائط کو ترجیح دیں، کیونکہ ہر کم اوورز والا میچ ایک ہی حساب سے نہیں چلتا۔
سوال: کیا پاور پلے میں تمام فیلڈرز کو اندر رکھنا ضروری ہے؟
جواب: نہیں، پاور پلے میں صرف دائرے سے باہر فیلڈرز کی زیادہ سے زیادہ تعداد محدود ہوتی ہے۔ ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کے ابتدائی پاور پلے میں زیادہ سے زیادہ 2 فیلڈرز باہر ہو سکتے ہیں، مگر باقی کھلاڑی دائرے کے اندر مختلف پوزیشنوں پر رکھے جا سکتے ہیں۔ کپتان سلپ، شارٹ تھرڈ، پوائنٹ، کور اور مڈ آف جیسی جگہیں بیٹر اور گیند کی حرکت کے مطابق منتخب کرتا ہے۔
سوال: پاور پلے میں بیٹنگ کی بہترین حکمتِ عملی کیا ہے؟
جواب: بہترین حکمتِ عملی حالات کے مطابق جارحانہ شاٹ، سنگل اور وکٹ کے تحفظ کا توازن رکھنا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی میں پہلے 6 اوورز میں فیلڈ کی پابندی سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، مگر نئی گیند سوئنگ کر رہی ہو تو ہر گیند پر بڑا شاٹ خطرناک ہے۔ ون ڈے میں ابتدائی 10 اوورز کے بعد بھی 40 اوور باقی رہتے ہیں، اس لیے 3 یا 4 وکٹیں گنوا کر بنایا گیا تیز آغاز اکثر فائدہ نہیں بلکہ قرض ثابت ہوتا ہے۔
پڑھنے کے لیے شکریہ
بیٹنگ نوٹس · Editorial Archive · 2026