3 پیمائشیں، ایک درست کرکٹ پچ
کرکٹ پچ کی معیاری لمبائی 22 گز، یعنی 20.12 میٹر، جبکہ چوڑائی 10 فٹ، یعنی 3.05 میٹر ہوتی ہے۔ یہ پیمائش بین الاقوامی کرکٹ میں آئی سی سی، ایم سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے استعمال کردہ قوانین سے جڑی ہے،...
3 پیمائشیں، ایک درست کرکٹ پچ
کرکٹ پچ کی معیاری لمبائی 22 گز، یعنی 20.12 میٹر، جبکہ چوڑائی 10 فٹ، یعنی 3.05 میٹر ہوتی ہے۔ یہ پیمائش بین الاقوامی کرکٹ میں آئی سی سی، ایم سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے استعمال کردہ قوانین سے جڑی ہے، چاہے میدان لارڈز ہو، لاہور کا قذافی اسٹیڈیم یا مقامی کلب کا میدان۔ دونوں وکٹوں کے درمیان فاصلہ اسٹمپس کی اگلی سطح سے ناپا جاتا ہے، اور ہر سرے پر بولنگ کریز 2.64 میٹر لمبی ہوتی ہے۔ پاپنگ کریز بولنگ کریز سے 1.22 میٹر آگے بنائی جاتی ہے، جبکہ واپسی کریز دونوں جانب کم از کم 1.32 میٹر پھیلتی ہے۔ گھاس، مٹی، ڈھلوان اور نمی پیمائش کے بعد کھیل کے نتیجے کو بدل سکتے ہیں؛ صرف فیتہ کھینچ دینا کافی نہیں، ظاہر ہے۔ بیٹنگ نوٹس پر پچ کے اعدادوشمار دیکھتے وقت ہمیشہ لمبائی، چوڑائی اور کریز کے فاصلے الگ الگ جانچیں۔

2025 سے پہلے کرکٹ پچ کی پیمائش کیسے کی جاتی تھی؟
روایتی طور پر کرکٹ پچ کی پیمائش 22 گز لمبی اور 10 فٹ چوڑی مستطیل سطح کے طور پر کی جاتی تھی، جس کے دونوں سروں پر وکٹیں، بولنگ کریز، پاپنگ کریز اور واپسی کریز نشان زد کی جاتی تھیں۔ بنیادی جواب یہی ہے: وکٹ سے وکٹ تک فاصلہ 20.12 میٹر، پچ کی چوڑائی 3.05 میٹر، اور بولنگ کریز 2.64 میٹر ہوتی ہے۔ میریلبون کرکٹ کلب کے قوانین میں کریز اور وکٹ کی وضاحت اسی اصول کے مطابق ملتی ہے۔
پرانے میدانوں میں رسی، لکڑی کے کھونٹے اور دھاتی فیتہ عام اوزار تھے۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ پیمائش مشکل ہے؛ مسئلہ یہ تھا کہ لوگ اندازے کو قانون سمجھ لیتے تھے۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک صرف درمیان کی لکیر ناپنے سے کام نہیں بنتا، کیونکہ اسٹمپس کی سیدھ، کریز کی چوڑائی اور دونوں اطراف کی واپسی کریز بھی درست جگہ ہونی چاہیے۔ ایم سی سی قانون 7 کے مطابق پچ کو نشان زد کرتے وقت بولنگ کریز وکٹ کے تینوں اسٹمپس سے متعلقہ سیدھ میں رکھی جاتی ہے، نہ کہ کسی ٹی وی کیمرے کے زاویے کے مطابق۔
درست پیمائش کے لیے پہلے میدان کا مرکزی محور طے کیا جاتا ہے، پھر دونوں وکٹوں کے مراکز سے 20.12 میٹر کا فاصلہ رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد 3.05 میٹر چوڑائی دونوں جانب برابر تقسیم کی جاتی ہے، ورنہ ایک بیٹر کو غیر محسوس اضافی جگہ مل سکتی ہے۔ بین الاقوامی میدانوں میں سطح کی ہمواری بھی اہم ہے؛ پانچ میٹر کے حصے میں معمولی ڈھلوان گیند کے اچھال کو بدل سکتی ہے، خاص طور پر اسپنرز کے خلاف۔ یہی وہ تفصیل ہے جسے عام گائیڈز چھوڑ دیتی ہیں، پھر سب پچ کو قصوروار کہتے ہیں۔
مزید بنیادی اصول دیکھنے کے لیے کرکٹ کے قوانین کی ابتدائی رہنمائی ملاحظہ کریں۔
2026 میں کرکٹ پچ کی پیمائش میں کیا بدلا؟
2026 میں بنیادی قانونی پیمائش نہیں بدلی: پچ اب بھی 22 گز، یعنی 20.12 میٹر، اور 10 فٹ، یعنی 3.05 میٹر ہے۔ تبدیلی زیادہ تر پیمائش کے طریقے، میدان کی نگرانی اور ڈیجیٹل دستاویزات میں آئی ہے؛ آئی سی سی کے میچ افسران، ہاک آئی کیمروں اور گراؤنڈ مینجمنٹ نظام نے غلطی چھپانا مشکل کر دیا ہے۔ آئی سی سی کے سرکاری قواعد میں کھیل کی سطح، کریز اور وکٹ سے متعلق ضوابط دستیاب ہیں۔
آج کل بڑے مقابلوں میں لیزر لیول، جی پی ایس نقشہ بندی اور نمی ناپنے والے آلات استعمال کیے جا سکتے ہیں، لیکن یہ آلات بنیادی 22 گز کے قانون کو تبدیل نہیں کرتے۔ ان کا کام یہ دیکھنا ہے کہ پچ ایک سرے سے دوسرے سرے تک ٹیڑھی، غیر ہموار یا حد سے زیادہ نرم تو نہیں۔ ایم سی سی کی اصطلاح میں پچ وہ مستطیل علاقہ ہے جس پر کھیل کے لیے تیار کی گئی مٹی یا مصنوعی سطح شامل ہوتی ہے؛ کنارے کی گھاس کو پچ کا اضافی حصہ سمجھنا ایک عام، مگر مہنگی غلطی ہے۔
ایک عملی نکتہ یاد رکھیں: اگر وکٹوں کے مراکز درست 20.12 میٹر دور ہوں مگر پاپنگ کریز ایک سرے پر 1.18 میٹر اور دوسرے سرے پر 1.22 میٹر ہو، تو پچ قانونی تاثر دے سکتی ہے مگر دونوں بیٹرز کو برابر رن اپ اور کریز کا فائدہ نہیں ملے گا۔ اسی طرح 3.05 میٹر چوڑائی ناپتے ہوئے صرف مٹی کا حصہ نہیں، کریز کی مکمل نشان دہی بھی مرکزی محور سے جڑی ہونی چاہیے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نیشنل اسٹیڈیم کراچی اور قذافی اسٹیڈیم لاہور جیسے میدانوں میں یہ فرق ٹیلی ویژن پر نظر نہیں آتا، مگر باؤلر کے قدموں اور گیند کے زاویے پر اثر ڈال سکتا ہے۔
یہ پیمائشیں میچ کی حکمت عملی سے کیسے جڑتی ہیں، اس کے لیے باؤلنگ لائن اور لینتھ کی حکمت عملی پڑھیں۔

کھلاڑیوں کے لیے کیا بدلا؟
کھلاڑیوں کے لیے پچ کی قانونی لمبائی وہی ہے، مگر پیمائش کی درستگی نے چھوٹے فرق کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ بیٹر کے لیے پاپنگ کریز سے 1.22 میٹر کا فاصلہ رن آؤٹ، کریز سے باہر نکلنے اور شاٹ کے انتخاب میں اہم ہے، جبکہ باؤلر کے لیے بولنگ کریز کے پیچھے پاؤں رکھنے کی جگہ نو بال کے فیصلے سے جڑی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مقابلوں میں امپائر، تھرڈ امپائر اور گراؤنڈ اسٹاف الگ الگ زاویوں سے صورت حال دیکھ سکتے ہیں، اس لیے پرانی “تقریباً درست” عادت اب قابلِ بھروسا نہیں۔
پچ کا سائز ایک جیسا رہتے ہوئے اس کی کارکردگی بدل سکتی ہے۔ 22 گز کی سطح پر خشک مٹی گیند کو جلد روک سکتی ہے، نم سطح سیم موومنٹ پیدا کر سکتی ہے، اور سخت رول کی ہوئی پچ اچھال کو زیادہ مستقل بنا سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ لمبی پچ خود بخود تیز یا چھوٹی پچ خود بخود سست ہوتی ہے؛ اصل اثر مٹی کی ساخت، گھاس، رولنگ، نمی اور موسم کا مجموعہ ہے۔ وکی پیڈیا کی کرکٹ پچ وضاحت بھی پچ کے قانونی سائز اور اس کے کھیل پر اثرات کو الگ موضوعات کے طور پر بیان کرتی ہے۔
کھلاڑیوں کو درج ذیل تین چیزیں میچ سے پہلے دیکھنی چاہییں:
- وکٹوں کے مراکز کے درمیان فاصلہ 20.12 میٹر ہے یا نہیں۔
- پاپنگ کریز بولنگ کریز سے 1.22 میٹر آگے ہے یا نہیں۔
- دونوں واپسی کریز ایک ہی محور پر ہیں اور کم از کم 1.32 میٹر پھیلی ہوئی ہیں یا نہیں۔
یہاں ایک کم معروف مگر مفید فرق ہے: پچ کی کل چوڑائی 3.05 میٹر ہے، مگر بیٹر کے شاٹ کا محفوظ زاویہ اس سے کہیں زیادہ وسیع محسوس ہو سکتا ہے کیونکہ گیند وکٹ کے باہر سے آتی ہے۔ اسی لیے اعدادوشمار میں “اچھی پچ” کہنا کافی نہیں؛ بیٹنگ نوٹس میں پاور پلے، نئی گیند اور اسپن کے مرحلے الگ درج کرنے چاہییں۔
اب کرکٹ پچ کی پیمائش سے کیا سمجھ آتا ہے؟
اب کرکٹ پچ کی پیمائش کو صرف تعمیراتی عدد نہیں سمجھنا چاہیے؛ یہ میچ کے خطرات، حکمت عملی اور اعدادوشمار پڑھنے کی بنیاد ہے۔ 20.12 میٹر کا فاصلہ بیٹر کے ردعمل کے وقت، باؤلر کے رن اپ کے آخری قدم اور گیند کے اچھال کی تشریح میں مدد دیتا ہے، جبکہ 3.05 میٹر چوڑائی آف اسٹمپ، لیگ اسٹمپ اور وائیڈ لائن کے فیصلوں کا پس منظر بناتی ہے۔ ادارہ جاتی طور پر “پچ کی پیمائش معیاری ہے” کہنا صرف تب معنی رکھتا ہے جب کریز کی نشان دہی، سطح کی ڈھلوان اور وکٹوں کی سیدھ بھی ریکارڈ کی گئی ہو۔
ایم سی سی کے قانون کا سادہ اصول ہے: “پچ کو درست طور پر نشان زد اور دونوں سروں پر وکٹوں کے درمیان سیدھ میں ہونا چاہیے۔” اس جملے کا عملی مطلب یہ ہے کہ فیتہ، چاک اور وکٹ کافی نہیں؛ مرکزی محور کی تصدیق بھی ضروری ہے۔ اگر میدان میں ایک سرے کی وکٹ دو سینٹی میٹر اندر اور دوسرے سرے کی دو سینٹی میٹر باہر ہو، تو کل فاصلہ بظاہر 20.12 میٹر رہ سکتا ہے، مگر سیدھ خراب ہو جائے گی۔ یہی ایک ایسا کنارہ ہے جسے عام شائقین نہیں دیکھتے، لیکن باؤلر کی لائن اور بیٹر کے فٹ ورک میں فرق پیدا ہوتا ہے۔
میچ دیکھتے وقت ان اشاروں پر توجہ دیں:
- نئی گیند بار بار ایک ہی لمبائی پر نیچی رہ رہی ہو تو سطح یا نمی کا اثر نوٹ کریں۔
- اسپنر کی گیند پچ کے ایک حصے سے زیادہ مڑ رہی ہو تو صرف باؤلر کو کریڈٹ نہ دیں۔
- رن آؤٹ کے فیصلوں میں کریز کا اندرونی کنارہ اور بیٹر کا بیٹ، دونوں الگ دیکھیں۔
- مقامی میدان میں پچ کی چوڑائی ناپے بغیر ٹی ٹوئنٹی کے اسکور کا بین الاقوامی میدان سے سیدھا موازنہ نہ کریں۔
بیٹنگ نوٹس پر میچ کے مقام، فارمیٹ، موسم اور پچ کی حالت ساتھ درج کریں؛ صرف 22 گز لکھنا معلومات نہیں، آدھا کام ہے۔

اگلی سہ ماہی کے لیے تین اندازے کیا ہیں؟
اگلی سہ ماہی میں کرکٹ پچ کی پیمائش کے حوالے سے تین واضح رجحانات متوقع ہیں: پہلے، پیشہ ور میدانوں میں ڈیجیٹل سطحی نقشے اور نمی کے ریکارڈ زیادہ عام ہوں گے؛ دوسرے، نشریاتی ادارے پچ کے سائز کے ساتھ سختی، رفتار اور اچھال کے اعداد بھی دکھائیں گے؛ تیسرے، مقامی کلب 20.12 میٹر کی پیمائش کے لیے سستے لیزر آلات استعمال کریں گے۔ بنیادی قانونی عدد تبدیل ہونے کا امکان کم ہے، کیونکہ 22 گز اور 3.05 میٹر کرکٹ کے تاریخی ڈھانچے میں گہرائی سے جڑے ہیں۔
پہلا اندازہ انتظامی ہے: آئی سی سی اور قومی بورڈز میچ سے پہلے پچ رپورٹ میں صرف “خشک” یا “فلیٹ” لکھنے کے بجائے نمی، رولنگ اور سطحی فرق درج کر سکتے ہیں۔ دوسرا تجزیاتی ہے: اسکورنگ ماڈل پچ کے مرحلہ وار رویے کو پاور پلے، درمیانی اوورز اور آخری اوورز کے ساتھ جوڑیں گے۔ تیسرا تعلیمی ہے: کوچز نوجوان کھلاڑیوں کو کریز کے 1.22 میٹر فرق، بولنگ کریز کے 2.64 میٹر نشان اور واپسی کریز کی کم از کم 1.32 میٹر توسیع عملی طور پر سمجھائیں گے۔
لیکن ایک بات پر خوش فہمی نہ پالیں: جدید آلہ خراب گراؤنڈ اسٹاف کی جگہ نہیں لے سکتا۔ غلط مرکزی محور پر لگایا گیا بہترین لیزر بھی غلط جواب دے گا، اور غلطی کو ڈیجیٹل اسکرین پر دکھانے سے وہ درست نہیں ہو جاتی۔ بیٹنگ نوٹس کے قارئین کے لیے بہتر طریقہ یہی ہے کہ میچ پچ رپورٹ اور اعدادوشمار کا طریقہ کے ساتھ مقام، موسم، پچ کی سطح اور کریز کی پیمائش کو ایک ہی فریم میں پڑھیں۔
کرکٹ پچ کی پیمائش: اہم اعداد ایک نظر میں
- وکٹ سے وکٹ تک لمبائی: 22 گز، یعنی 20.12 میٹر۔
- پچ کی چوڑائی: 10 فٹ، یعنی 3.05 میٹر۔
- بولنگ کریز: 2.64 میٹر لمبی۔
- پاپنگ کریز: بولنگ کریز سے 1.22 میٹر آگے۔
- واپسی کریز: بولنگ کریز کے دونوں سروں سے کم از کم 1.32 میٹر باہر۔
- وکٹ: تین اسٹمپس، جن کی مجموعی چوڑائی 22.86 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔
- پیمائش کے بنیادی ذرائع: ایم سی سی قوانین، آئی سی سی ضوابط اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی میچ انتظامیہ۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سوال: کرکٹ پچ کی پیمائش کیا ہوتی ہے؟
جواب: کرکٹ پچ کی معیاری لمبائی 22 گز یا 20.12 میٹر اور چوڑائی 10 فٹ یا 3.05 میٹر ہوتی ہے۔ یہ فاصلہ وکٹوں کے مراکز کے درمیان ناپا جاتا ہے، نہ کہ میدان کے کنارے سے۔ بولنگ کریز 2.64 میٹر، پاپنگ کریز بولنگ کریز سے 1.22 میٹر آگے، اور واپسی کریز دونوں جانب کم از کم 1.32 میٹر تک ہوتی ہے۔ ایم سی سی اور آئی سی سی کے قوانین اسی بنیادی ترتیب کو تسلیم کرتے ہیں۔
سوال: کرکٹ پچ کی لمبائی گھر یا کلب میں کیسے ناپیں؟
جواب: پہلے ایک سیدھا مرکزی محور بنائیں، پھر دونوں وکٹوں کے مراکز کے درمیان 20.12 میٹر ناپیں۔ اس کے بعد محور کے دونوں طرف 1.525 میٹر رکھ کر 3.05 میٹر چوڑائی نشان زد کریں، اور بولنگ کریز سے 1.22 میٹر آگے پاپنگ کریز بنائیں۔ عام رسی میں کھنچاؤ غلطی پیدا کر سکتا ہے، اس لیے دھاتی فیتہ یا لیزر پیمانہ استعمال کریں اور دونوں سروں کی سیدھ دوبارہ چیک کریں۔
سوال: کرکٹ پچ اور وکٹ میں کیا فرق ہے؟
جواب: کرکٹ پچ 22 گز کا مکمل مستطیل کھیل کا علاقہ ہے، جبکہ وکٹ عموماً تین اسٹمپس اور بیلز کے مجموعے کو کہا جاتا ہے۔ پچ کی چوڑائی 3.05 میٹر ہے، مگر وکٹ کی لکڑی کی ساخت اس سے بہت کم چوڑی ہوتی ہے۔ اس فرق کو نظرانداز کرنے سے لوگ وکٹ کا فاصلہ ناپتے ہیں اور اسے پچ کی قانونی پیمائش سمجھ لیتے ہیں، جو صاف غلطی ہے۔
سوال: پیمائش درست ہو مگر پچ کا کھیل مختلف کیوں ہو؟
جواب: پیمائش درست ہونے کے باوجود مٹی، نمی، گھاس، رولنگ اور موسم پچ کے رویے کو بدل سکتے ہیں۔ خشک سطح اسپن کو مدد دے سکتی ہے، نم سطح نئی گیند کو حرکت دے سکتی ہے، اور سخت رولنگ اچھال کو زیادہ مستقل بنا سکتی ہے۔ اس لیے 20.12 میٹر کی ایک جیسی پچ کراچی، لاہور اور لارڈز میں یکساں اسکورنگ نتیجہ نہیں دے گی؛ مقام اور سطحی حالت بھی رپورٹ کریں۔
سوال: کرکٹ پچ کی پیمائش میں عام غلطی کیا ہوتی ہے؟
جواب: سب سے عام غلطی وکٹوں کے مراکز کے بجائے اسٹمپس کے بیرونی کناروں سے 20.12 میٹر ناپنا ہے۔ دوسری بڑی غلطی پاپنگ کریز کو بولنگ کریز سے 1.22 میٹر کے بجائے اندازے سے بنانا ہے، جس سے بیٹر اور امپائر دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ آخر میں مرکزی محور، چوڑائی اور واپسی کریز کی سیدھ الگ الگ چیک کریں؛ ایک پیمائش پورا کام نہیں کرتی۔
سوال: مصنوعی کرکٹ پچ کی پیمائش بھی وہی ہوتی ہے؟
جواب: مصنوعی کرکٹ پچ کے لیے بھی رسمی میچ میں بنیادی کھیل کا علاقہ 22 گز بائی 10 فٹ ہی رکھا جاتا ہے۔ فرق سطح کے مواد، نیچے کی بنیاد، مصنوعی گھاس اور گیند کے اچھال میں ہوتا ہے، نہ کہ قانونی لمبائی میں۔ تنصیب سے پہلے وکٹوں کے مراکز، کریز کے فاصلے اور سطح کی ہمواری ناپیں، کیونکہ مصنوعی قالین کا جوڑ چند سینٹی میٹر کا فرق پیدا کر سکتا ہے۔
سوال: کیا کرکٹ پچ کی پیمائش مفت میں کی جا سکتی ہے؟
جواب: ہاں، شوقیہ یا کلب سطح پر دھاتی فیتہ، چاک، رسی اور لکڑی کے کھونٹوں سے بنیادی پیمائش مفت یا بہت کم خرچ میں کی جا سکتی ہے۔ رسمی میچ کے لیے لیزر لیول، نمی ناپنے والا آلہ اور تربیت یافتہ گراؤنڈ اسٹاف زیادہ قابلِ اعتماد رہتے ہیں۔ کم از کم 20.12 میٹر لمبائی، 3.05 میٹر چوڑائی اور 1.22 میٹر پاپنگ کریز کا فاصلہ تحریری طور پر درج کریں۔
درست پیمائش کے بعد پچ کا تجزیہ بھی جاری رکھیں؛ بیٹنگ نوٹس پر روزانہ کرکٹ بصیرت اور میچ جائزوں کے لیے ہماری تازہ اپ ڈیٹس دیکھیں۔
پڑھنے کے لیے شکریہ
بیٹنگ نوٹس · Editorial Archive · 2026