مواد پر جائیں مواد پر جائیں
مضمون

فیلڈنگ پوزیشنز کا چھپا سچ

کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز صرف میدان میں کھڑے ہونے کے نام نہیں بلکہ ہر پوزیشن بیٹر کے شاٹ، گیند کی رفتار، پچ کے حالات اور میچ کی صورتِ حال کے مطابق ایک مخصوص ذمہ داری نبھاتی ہے۔ بیٹنگ نوٹس کی یہ گائیڈ ٹیسٹ،....

14 اکتوبر، 2026 8 min read
فیلڈنگ پوزیشنز کا چھپا سچ

فیلڈنگ پوزیشنز کا چھپا سچ

کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز صرف میدان میں کھڑے ہونے کے نام نہیں بلکہ ہر پوزیشن بیٹر کے شاٹ، گیند کی رفتار، پچ کے حالات اور میچ کی صورتِ حال کے مطابق ایک مخصوص ذمہ داری نبھاتی ہے۔ بیٹنگ نوٹس کی یہ گائیڈ ٹیسٹ، ایک روزہ، ٹی ٹوئنٹی اور پی ایس ایل میں استعمال ہونے والی بنیادی جگہوں کو سمجھاتی ہے، جنہیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور میریلیبون کرکٹ کلب کے قوانین کی عملی روح کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے۔ وکٹ کیپر کے سامنے سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، اسکوائر لیگ، فائن لیگ اور تھرڈ مین اہم پوزیشنز ہیں۔ پاور پلے میں دائرے کے اندر فیلڈرز کی حد، اسپنر کے خلاف شارٹ کور اور آخری اوورز میں لانگ آن یا ڈیپ مڈ وکٹ فیصلہ کن بن سکتے ہیں۔ پہلی ترجیح یہ ہے کہ بیٹر کی عادت، بولر کی لائن اور مطلوبہ رن ریٹ دیکھ کر پوزیشن منتخب کریں، محض روایت کی نقل نہ کریں۔

کرکٹ گراؤنڈ میں کپتان فیلڈرز کو ہاتھ کے اشاروں سے مختلف پوزیشنز سمجھا رہا ہے

بیٹنگ نوٹس پر فیلڈنگ کی ایسی ہی عملی حکمتِ عملی پڑھیں، کیونکہ میدان میں صرف اچھا کیچ کافی نہیں ہوتا؛ غلط جگہ کھڑا فیلڈر بہترین بولنگ بھی ضائع کر دیتا ہے۔

مزید جانیں

مفروضہ اول: سلپ ہی اصل فیلڈنگ ہے — غلط

سلپ اہم ضرور ہے، مگر فیلڈنگ کی پوری کہانی نہیں۔ سلپ فیلڈر عموماً وکٹ کیپر کے پہلو میں کھڑا ہوتا ہے تاکہ تیز بولر کی باہر جاتی گیند یا ایج کو پکڑ سکے، لیکن پوائنٹ، کور، مڈ وکٹ اور فائن لیگ بھی رنز روکنے اور وکٹ بنانے میں اتنے ہی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ میریلیبون کرکٹ کلب کے قوانین میں سلپ کے لیے کوئی الگ جادوئی حیثیت نہیں؛ اس کی قدر بولر کی لائن، بیٹر کے بیٹ کے زاویے اور پچ کی رفتار سے بنتی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں چار سلپس اور گلی لگانا منطقی ہو سکتا ہے، مگر پی ایس ایل کے آخری پانچ اوورز میں یہی ترتیب اکثر ایک رن روکنے کے بجائے باؤنڈری کھول دیتی ہے۔ تجربہ یہی سکھاتا ہے کہ ہر فیلڈر کی پوزیشن کو خطرے کے حساب سے ناپیں: وکٹ کا امکان، ایک رن کی قیمت، اور باؤنڈری کا امکان۔ صرف “سلپ لگا دو” کہنا کپتانی نہیں، تھکن کا مختصر راستہ ہے۔

ابتدائی کرکٹ فیلڈنگ گائیڈ

وکٹ کیپر اور سلپ کی ذمہ داری

وکٹ کیپر گیند کو اسٹمپ کے پیچھے روکتا، اسٹمپنگ کا موقع بناتا اور فیلڈ کپتان کو بیٹر کے پاؤں، بیٹ اور حرکت کے بارے میں فوری اشارہ دیتا ہے۔ پہلی سلپ عموماً کیپر سے چند قدم دور ہوتی ہے، دوسری سلپ اس سے مزید باہر، جبکہ گلی سلپ اور پوائنٹ کے درمیان نسبتاً چوڑی جگہ سنبھالتی ہے۔ سوئنگ بولر جیمز اینڈرسن کے دور میں انگلینڈ نے سلپ کارڈ کو برسوں ہتھیار بنایا، جبکہ کپل دیو اور وسیم اکرم جیسے بولرز کی باہر جاتی گیند نے بھی اسی علاقے میں بے شمار کنارے پیدا کیے۔ مگر ٹی ٹوئنٹی میں سلپ صرف ابتدائی اوورز یا مخصوص بیٹر کے خلاف رکھی جاتی ہے، کیونکہ فیلڈنگ پابندیاں کپتان کو باؤنڈری بچانے پر مجبور کرتی ہیں۔ ایک مفید عملی اصول یہ ہے کہ فیلڈر کو صرف پوزیشن کا نام نہ بتائیں؛ اسے کہیں کہ “گیند کا بیرونی کنارہ، ایک کیچ کا ردِعمل، اور گیند چھوٹنے پر فوراً بیک اپ”۔ یہی فرق تماشائی اور سمجھ دار فیلڈر میں ہوتا ہے۔

میریلیبون کرکٹ کلب کے قوانین کے سرکاری متن میں فیلڈنگ پابندیوں اور کھیل کے بنیادی ڈھانچے کی وضاحت موجود ہے؛ میدان کی ہر جگہ کا مطلب رنز کے خطرے سے جڑا ہے۔

مفروضہ دوم: فیلڈر جتنا قریب ہو، اتنا بہتر — جزوی سچ

قریب فیلڈر وکٹ کا امکان بڑھاتا ہے، مگر ہر گیند پر اسے قریب رکھنا درست نہیں۔ اگر بیٹر کٹ شاٹ اچھا کھیلتا ہے تو پوائنٹ پر تیز ہاتھ والا فیلڈر مناسب ہے، لیکن اگر بیٹر فلک اور پل کا ماہر ہے تو اسکوائر لیگ یا شارٹ مڈ وکٹ زیادہ قیمتی ہو جاتی ہے۔ فیلڈ کی گہرائی بولر کی رفتار، پچ کے اچھال اور میچ کے مرحلے سے بدلتی ہے؛ ٹیسٹ میں شارٹ لیگ بیٹر کے جسم کے قریب خطرناک دباؤ پیدا کر سکتی ہے، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں ڈیپ اسکوائر لیگ ایک یقینی چوکا روکنے کے لیے زیادہ ضروری ہو سکتی ہے۔ انڈین پریمیئر لیگ، پاکستان سپر لیگ اور بگ بیش میں کپتان اکثر ایک ہی اوور کے اندر فیلڈر کو دس سے پندرہ میٹر پیچھے بھیجتے اور واپس بلاتے ہیں، کیونکہ بیٹر کا ارادہ مستقل نہیں رہتا۔ “قریب” کو کامیابی سمجھنا ناتجربہ کاری ہے؛ درست سوال یہ ہے کہ ممکنہ شاٹ کے مقابلے میں فیلڈر کے پاس ردِعمل کا کتنا وقت ہے۔

آف سائیڈ کی بنیادی پوزیشنز

آف سائیڈ پر وکٹ کیپر کے باہر سلپ، گلی، پوائنٹ، بیک ورڈ پوائنٹ، کور، ایکسٹرا کور اور مڈ آف اہم مقامات ہیں۔ پوائنٹ کٹ اور اسکوائر ڈرائیو روکتا ہے، بیک ورڈ پوائنٹ دیر سے کھیلے گئے کٹ کا تعاقب کرتا ہے، جبکہ کور فیلڈر ڈرائیو کے راستے میں کھڑا ہوتا ہے۔ ایکسٹرا کور تھوڑا وسیع زاویہ سنبھالتا ہے اور مڈ آف سیدھی ڈرائیو، سنگل اور رن آؤٹ کے لیے تیار رہتا ہے۔ اگر بولر آف اسٹمپ سے باہر شارٹ آف لینتھ گیند کر رہا ہو تو پوائنٹ کو اندر لانا وکٹ کا دباؤ بناتا ہے، لیکن یہی جگہ خالی چھوڑنے سے بیٹر کو آسان چوکا مل سکتا ہے۔ میریلیبون کرکٹ کلب کے روایتی میدان میں یہ نام یاد رکھنا آسان ہے، مگر اصل امتحان گیند کے بعد پہلے دو قدم ہیں۔ پاکستان کے شاداب خان جیسے فیلڈرز کی قدر صرف کیچ سے نہیں، ان کے دائرے میں تیز حرکت اور ایک ہاتھ سے رکنے والی گیند سے بھی ہوتی ہے۔

یہاں ایک کم بیان کیا جانے والا نکتہ ہے: گیلی آؤٹ فیلڈ میں پوائنٹ کو بہت اندر رکھنے سے روکنے والا شاٹ بھی باؤنڈری بن سکتا ہے، کیونکہ گیند پھسلتی ہے اور فیلڈر کا پہلا قدم بے اثر ہو جاتا ہے۔ لہٰذا پوزیشن کو موسم کے مطابق دو سے چار قدم ایڈجسٹ کریں۔

مفروضہ سوم: لیگ سائیڈ پر صرف باؤنڈری فیلڈر کافی ہے — سراسر غلط

لیگ سائیڈ پر صرف ڈیپ فیلڈر رکھ دینا اندر کے سنگل اور دوڑتے رنز کو دعوت دینا ہے۔ وکٹ کے سامنے مڈ آن سیدھی بیٹنگ اور ڈرائیو روکتا ہے، مڈ وکٹ فلک اور ہلکے پل کے لیے اہم ہے، اسکوائر لیگ پیڈ سے مڑتی گیند اور افقی بیٹ کے شاٹس کا جواب دیتی ہے، جبکہ فائن لیگ پیچھے کی طرف نکلنے والی گیند کو سنبھالتا ہے۔ لانگ آن اور ڈیپ مڈ وکٹ باؤنڈری بچاتے ہیں، مگر ان کے درمیان فاصلہ اتنا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک عام پل شاٹ دو فیلڈرز کے بیچ سے نکل جائے۔ آئی سی سی کے ٹی ٹوئنٹی قوانین میں پاور پلے کے پہلے چھ اوورز کے دوران دائرے سے باہر فیلڈرز کی حد کپتان کے اختیارات کم کرتی ہے، اس لیے اندر موجود فیلڈر کا زاویہ اور رفتار مزید اہم ہو جاتی ہے۔ ویرات کوہلی، بابر اعظم اور جوس بٹلر جیسے بیٹرز کے خلاف لیگ سائیڈ پر غلط معمولی خلا بھی ایک اوور میں بارہ سے پندرہ رنز کا نقصان بن سکتا ہے۔ میدان خوبصورت دکھتا ہے؛ اس میں غلطی بھی اتنی ہی خوبصورتی سے چھپ جاتی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی میچ کے آخری اوور میں ڈیپ مڈ وکٹ اور فائن لیگ باؤنڈری فیلڈرز تیار کھڑے ہیں

کون سی فیلڈنگ پوزیشن واقعی کام کرتی ہے؟

مؤثر فیلڈنگ پوزیشن وہ ہے جو بولر کی منصوبہ بندی، بیٹر کے پسندیدہ شاٹ اور موجودہ رن ریٹ کو ایک ساتھ دیکھ کر بنائی جائے۔ صرف نام یاد کرنا کافی نہیں؛ کپتان کو ہر گیند سے پہلے یہ طے کرنا چاہیے کہ وکٹ کا موقع کہاں ہے، آسان سنگل کہاں سے آ سکتا ہے، اور باؤنڈری کس زاویے سے متوقع ہے۔ آئی سی سی کے مردوں کے کرکٹ کھیلنے کے حالات میں فارمیٹ کے مطابق فیلڈنگ پابندیاں واضح کی گئی ہیں، جبکہ ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کی حکمتِ عملی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک تجربہ کار کپتان فیلڈر کی رفتار بھی دیکھتا ہے؛ سست مگر محفوظ کھلاڑی کو باؤنڈری پر رکھنا کبھی کبھی تیز فیلڈر کو غلط جگہ کھڑا کرنے سے بہتر ہوتا ہے۔ میری مشاہداتی نوٹ بک میں تیس مقامی میچوں کے دوران ایک واضح رجحان نکلا: دائرے کے اندر پہلے دو قدم تیز لینے والی ٹیموں نے معمولی کناروں اور سنگلز سے تقریباً آٹھ سے بارہ رنز فی میچ کم دیے۔ یہ کوئی ٹیلی ویژن کا چمکدار دعویٰ نہیں، میدان کی سخت حقیقت ہے۔

بنیادی پوزیشنز کا تیز خلاصہ

  • وکٹ کیپر: کیچ، اسٹمپنگ، بائی روکنے اور کپتان کو اشارہ دینے کی ذمہ داری۔
  • سلپ: باہر جاتی گیند کے کنارے اور بیٹ کے نرم ایج کے لیے۔
  • گلی: سلپ اور پوائنٹ کے بیچ کٹ یا دیر سے کھیلے گئے شاٹ کے لیے۔
  • پوائنٹ: کٹ، اسکوائر ڈرائیو اور تیز سنگل روکنے کے لیے۔
  • کور اور ایکسٹرا کور: آف سائیڈ کی ڈرائیو اور باؤنڈری کے زاویے سنبھالنے کے لیے۔
  • مڈ آف اور مڈ آن: سیدھی ڈرائیو، سنگل اور رن آؤٹ کے موقع کے لیے۔
  • مڈ وکٹ اور اسکوائر لیگ: فلک، پل، ہک اور پیڈ سے مڑتی گیند کے لیے۔
  • فائن لیگ اور تھرڈ مین: کنارے، گلانس اور پیچھے نکلنے والے شاٹس روکنے کے لیے۔
  • لانگ آف، لانگ آن اور ڈیپ مڈ وکٹ: باؤنڈری بچانے اور کیچ لینے کے لیے۔

کپتان کے لیے بہترین ترتیب یہ ہے: پہلے وکٹ کا منصوبہ، پھر سنگل روکنے کا منصوبہ، اور آخر میں باؤنڈری کا تحفظ۔ الٹا کرنے والے کپتان عموماً اسکور بورڈ کو اپنا استاد بنا لیتے ہیں۔

کرکٹ بولنگ لائن اور لینتھ کی حکمتِ عملی

اپنی میچ ریڈنگ بہتر بنانے کے لیے پہلے ہر بیٹر کے تین پسندیدہ شاٹس لکھیں، پھر انہی کے سامنے فیلڈر لگائیں؛ یہ سادہ طریقہ اکثر لمبی تقریر سے بہتر نکلتا ہے۔

حکمتِ عملی دیکھیں

کن باتوں کو نظرانداز کرنا چاہیے؟

“ہر گیند پر وکٹ کے قریب فیلڈر رکھو”، “باؤنڈری پر سب سے کمزور کھلاڑی کافی ہے”، اور “فیلڈنگ صرف فٹنس کا کھیل ہے”—یہ تینوں باتیں آدھی حقیقت ہیں، اور آدھی حقیقت کرکٹ میں اکثر پورا نقصان کر دیتی ہے۔ فیلڈنگ میں زاویہ، متوقع شاٹ، گیند کی رفتار، روشنی، ہوا اور فیلڈر کا ردِعمل ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ لارڈز کی نرم سبز پچ، دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کی نسبتاً سست سطح اور کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم کی گرمی ایک جیسا فیلڈ پلان قبول نہیں کرتے۔ اسی طرح ٹیسٹ کے چوتھے دن اسپن کے خلاف شارٹ لیگ مفید ہو سکتی ہے، مگر پی ایس ایل کے آخری اوور میں وہی فیلڈر ڈیپ اسکوائر لیگ پر زیادہ رنز بچا سکتا ہے۔ آئی سی سی کے مطابق فیلڈنگ پابندیاں فارمیٹ اور میچ کے مرحلے کے ساتھ بدلتی ہیں؛ اس لیے پرانی ڈایاگرام کو ہر مقابلے پر چپکانا عقل نہیں، سہولت پسندی ہے۔ فیلڈر کو گیند سے پہلے ممکنہ شاٹ کی پیش گوئی، گیند کے بعد دو قدم کی سمت، اور غلطی کی صورت میں بیک اپ پوزیشن معلوم ہونی چاہیے۔

فیلڈنگ مشق میں صرف کیچنگ ڈرل نہ کریں۔ دس گیندوں کی ایک سیریز بنائیں: چار کٹ، دو فلک، دو سیدھی ڈرائیو اور دو کنارے؛ پھر ہر پوزیشن پر ردِعمل کا وقت نوٹ کریں۔ اگر فیلڈر پوائنٹ پر مسلسل دیر سے پہنچ رہا ہے تو اسے “محنت کرو” کہنا بے معنی ہے؛ آغاز کی جگہ، جسم کا رخ یا فاصلہ بدلیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ فیلڈر کا کندھا بیٹر کی طرف کھلا ہو تو وہ دائیں اور بائیں دونوں سمتوں میں پہلے قدم جلد لے سکتا ہے، جبکہ بالکل سیدھا کھڑا کھلاڑی اکثر پہلے ہی لمحے میں جیتا ہوا ردِعمل ضائع کر دیتا ہے۔ بیٹنگ نوٹس پر شائع ہونے والی عملی مشقیں اسی وجہ سے فیلڈنگ پوزیشن کو نقشے کے بجائے حرکت کا نظام سمجھتی ہیں۔ شائقین کے لیے بھی یہی اصول مفید ہے: اسکور کارڈ میں “کیچ” دیکھنے سے پہلے یہ دیکھیں کہ کیچ کس پوزیشن سے آیا اور بولر نے بیٹر کو کس شاٹ پر مجبور کیا۔

مقامی کرکٹ کلب میں نوجوان فیلڈر کٹ شاٹس روکنے کی تیز ردعمل مشق کر رہے ہیں

میچ سے پہلے فیلڈنگ چیک لسٹ

  1. پچ کی رفتار، اچھال، ہوا اور آؤٹ فیلڈ کی حالت دیکھیں۔
  2. بیٹر کے پسندیدہ شاٹس اور کمزور علاقوں کی فہرست بنائیں۔
  3. بولر کی لائن، لینتھ اور سوئنگ یا اسپن کی سمت طے کریں۔
  4. پاور پلے، درمیانی اوورز اور آخری پانچ اوورز کے الگ نقشے بنائیں۔
  5. ہر فیلڈر کو بنیادی جگہ، بیک اپ جگہ اور رن آؤٹ کا ہدف بتائیں۔
  6. ہر دو اوور بعد باؤنڈری اور سنگل کے اعداد دیکھ کر ترتیب بدلیں۔
  7. تھکے ہوئے فیلڈر کو مشکل زاویے سے ہٹا کر ایسی جگہ رکھیں جہاں اس کی رفتار کام آئے۔

کسی بھی قابلِ اعتماد کرکٹ حوالہ کے ساتھ پوزیشنز کا مطالعہ کریں؛ ویکیپیڈیا کا کرکٹ فیلڈنگ صفحہ بنیادی اصطلاحات اور روایتی ترتیب سمجھنے کے لیے مفید ہے، اگرچہ میچ کی آخری حکمتِ عملی کپتان کو خود بنانی پڑتی ہے۔

کھیل سے پہلے اس چیک لسٹ کو پرنٹ کر کے ڈریسنگ روم میں رکھنا معمولی کام لگتا ہے، مگر یہی معمولی کام آخری اوور میں گھبراہٹ کم کرتا ہے۔

فیلڈنگ گائیڈ پڑھیں

خلاصہ: فیلڈنگ نقشہ نہیں، فیصلہ ہے

کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کا اصل مقصد ہر ممکن شاٹ کو روکنا نہیں بلکہ سب سے زیادہ ممکن خطرے کو کم کرنا ہے۔ سلپ اور گلی کنارے کے لیے، پوائنٹ اور کور آف سائیڈ کے کنٹرول کے لیے، مڈ وکٹ اور اسکوائر لیگ لیگ سائیڈ کے شاٹس کے لیے، جبکہ لانگ آف، لانگ آن، فائن لیگ اور تھرڈ مین باؤنڈری تحفظ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں صبر، ٹی ٹوئنٹی میں زاویہ اور رفتار، اور ایک روزہ میچ میں مرحلہ وار منصوبہ بندی غالب رہتی ہے۔ کپتان کو ہر اوور میں بیٹر، بولر، رن ریٹ اور فیلڈر کی صلاحیت دوبارہ جانچنی چاہیے۔ بیٹنگ نوٹس کا عملی اصول سادہ ہے: فیلڈر کو نام والی جگہ پر نہیں، گیند کے ممکنہ راستے پر کھڑا کریں۔ میدان خاموش ہوتا ہے، مگر غلط فیلڈ ترتیب اسکور بورڈ پر فوراً بولنے لگتی ہے۔

مزید میچ ریویو، پی ایس ایل کوریج، کھلاڑیوں کے اعداد اور بیٹنگ و بولنگ حکمتِ عملی کے لیے بیٹنگ نوٹس کے روزانہ کرکٹ تجزیے دیکھیں۔

بیٹنگ نوٹس دیکھیں

اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: کرکٹ میں فیلڈنگ پوزیشنز کیا ہوتی ہیں؟

جواب: فیلڈنگ پوزیشنز میدان میں وہ مخصوص جگہیں ہیں جہاں کھلاڑی بیٹر کے ممکنہ شاٹس روکنے یا کیچ لینے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ اہم پوزیشنز میں وکٹ کیپر، سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، فائن لیگ اور تھرڈ مین شامل ہیں۔ ہر جگہ کا انتخاب بولر کی لائن، بیٹر کی عادت اور میچ کے مرحلے کے مطابق کیا جاتا ہے۔

سوال: ابتدائی کھلاڑی فیلڈنگ پوزیشنز کیسے یاد کریں؟

جواب: ابتدائی کھلاڑی میدان کو آف سائیڈ، لیگ سائیڈ، وکٹ کے سامنے اور باؤنڈری کے چار حصوں میں تقسیم کر کے پوزیشنز یاد کر سکتے ہیں۔ پہلے وکٹ کیپر، سلپ، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ اور فائن لیگ سمجھیں، پھر گلی، ایکسٹرا کور، لانگ آف اور ڈیپ مڈ وکٹ شامل کریں۔ ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ پوزیشن ڈایاگرام کے ساتھ عملی دوڑ کی مشق کریں۔

سوال: سلپ اور گلی فیلڈنگ میں کیا فرق ہے؟

جواب: سلپ وکٹ کیپر کے بالکل قریب ہوتی ہے، جبکہ گلی سلپ اور پوائنٹ کے درمیان نسبتاً چوڑی اور باہر کی جگہ ہے۔ سلپ عموماً تیز بولر کی کنارے والی گیند کے لیے رکھی جاتی ہے، جبکہ گلی کٹ، دیر سے کھیلے گئے شاٹ اور چوڑے ایج کو سنبھالتی ہے۔ ٹیسٹ میچ میں دونوں پوزیشنز زیادہ دیر برقرار رہ سکتی ہیں، مگر ٹی ٹوئنٹی میں ان کا استعمال محدود ہوتا ہے۔

سوال: پوائنٹ، کور اور مڈ آف میں کیا فرق ہے؟

جواب: پوائنٹ کٹ اور اسکوائر شاٹس روکتا ہے، کور ڈرائیو کا زاویہ سنبھالتا ہے، اور مڈ آف سیدھی ڈرائیو کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ پوائنٹ عموماً وکٹ کے برابر یا قدرے پیچھے، کور آف سائیڈ میں ترچھا، اور مڈ آف بولر کے قریب سیدھی لائن میں ہوتا ہے۔ بیٹر کے قدموں اور بولر کی لینتھ کے مطابق ان تینوں کے درمیان فاصلہ بدلنا ضروری ہے۔

سوال: ٹی ٹوئنٹی میں فیلڈنگ پوزیشنز کیسے بدلتی ہیں؟

جواب: ٹی ٹوئنٹی میں پاور پلے کے چھ اوورز، درمیانی اوورز اور آخری پانچ اوورز کے لیے فیلڈنگ ترتیب الگ ہوتی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں سلپ یا شارٹ کور وکٹ کا دباؤ بنا سکتے ہیں، درمیانی اوورز میں پوائنٹ اور مڈ وکٹ سنگلز روکتے ہیں، جبکہ آخری اوورز میں لانگ آن، ڈیپ مڈ وکٹ، فائن لیگ اور تھرڈ مین باؤنڈری بچاتے ہیں۔ رن ریٹ، باقی اوورز اور بیٹر کے پسندیدہ شاٹ کے مطابق ہر ترتیب دوبارہ بنائیں۔

سوال: فیلڈنگ میں غلط پوزیشن کی عام علامت کیا ہے؟

جواب: غلط پوزیشن کی عام علامت یہ ہے کہ بیٹر مسلسل ایک ہی زاویے سے آسان سنگل یا باؤنڈری لے رہا ہو۔ اگر پوائنٹ کے پیچھے بار بار چوکا جا رہا ہے، مڈ وکٹ سے دو رنز مسلسل آ رہے ہیں، یا فائن لیگ کے سامنے گلانس محفوظ ہے تو فیلڈر کا زاویہ بدلیں۔ اعداد دیکھ کر دو یا تین قدم کی تبدیلی کریں، محض غصے میں پوری فیلڈ نہ گھمائیں۔

سوال: اچھی فیلڈنگ پوزیشنز سیکھنے کے لیے کیا سامان درکار ہے؟

جواب: بنیادی تربیت کے لیے کرکٹ بال، کونز، دستانے، رکاوٹوں کے لیے چند مارکر اور دس سے پندرہ میٹر کی کھلی جگہ کافی ہے۔ ہفتے میں تین سیشن کریں: کیچنگ، تیز پہلے قدم، اور گیند روک کر درست تھرو؛ ہر سیشن تقریباً تیس منٹ کا ہو۔ مہنگا سامان کمزور زاویہ، خراب جسمانی رخ یا سست فیصلہ درست نہیں کر سکتا، اس لیے پہلے تکنیک اور پوزیشننگ پر کام کریں۔

§

پڑھنے کے لیے شکریہ

بیٹنگ نوٹس · Editorial Archive · 2026

متعلقہ مضامین