امپائر کے اشارے: 12 اہم نشانیاں سمجھنے کا مکمل طریقہ
کرکٹ امپائر کے اشارے میدان میں فیصلے، رنز اور کھیل کی قانونی حیثیت بتانے والی باقاعدہ علامتیں ہیں۔ بیٹنگ نوٹس پاکستان، بھارت، انگلینڈ اور دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے لیے ان اشاروں کی سادہ تشریح پیش کرت...
امپائر کے اشارے: 12 اہم نشانیاں سمجھنے کا مکمل طریقہ
کرکٹ امپائر کے اشارے میدان میں فیصلے، رنز اور کھیل کی قانونی حیثیت بتانے والی باقاعدہ علامتیں ہیں۔ بیٹنگ نوٹس پاکستان، بھارت، انگلینڈ اور دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے لیے ان اشاروں کی سادہ تشریح پیش کرتا ہے، جس میں آئی سی سی، ایم سی سی، پی ایس ایل اور ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کے عام حالات شامل ہیں۔ امپائر کا ایک ہاتھ اٹھانا آؤٹ یا نو بال، دونوں میں سے کسی فیصلے کی طرف اشارہ کر سکتا ہے؛ فرق ہاتھ کی سمت اور حرکت سے سمجھا جاتا ہے۔ وائیڈ کے لیے دونوں بازو پھیلائے جاتے ہیں، چوکے کے لیے بازو کو زمین کے متوازی حرکت دی جاتی ہے، جبکہ چھکے کے لیے دونوں بازو سر کے اوپر اٹھتے ہیں۔ ڈی آر ایس میں ٹی وی امپائر آخری فیصلہ بھیجتا ہے، مگر میدان کا امپائر پھر بھی مرکزی کردار رکھتا ہے۔ اگلا میچ دیکھتے وقت پہلے اشارہ پہچانیں، پھر اس کا اسکور بورڈ پر اثر نوٹ کریں۔

مرحلہ 1: امپائر کے بنیادی اشارے کیسے پہچانیں؟
امپائر کے بنیادی اشارے کھیل کے فوری فیصلوں کو واضح کرتے ہیں، جن میں آؤٹ، نو بال، وائیڈ، باؤنڈری اور ڈیڈ بال شامل ہیں۔ عام طور پر اشارہ چند سیکنڈ تک برقرار رکھا جاتا ہے تاکہ اسکورر، کھلاڑی اور تماشائی اسے دیکھ سکیں۔ آئی سی سی کے تحت بین الاقوامی کرکٹ میں اشاروں کا مقصد زبان یا شور کے بغیر ایک ہی فیصلے کو سمجھانا ہے؛ یعنی اسٹیڈیم میں پچاس ہزار لوگ چیخ رہے ہوں تو بھی ہاتھ کام آتا ہے، کیونکہ مائیک ہمیشہ قابلِ بھروسا نہیں ہوتا۔ ایم سی سی کے قوانین میں امپائر کے فیصلے اور اشارے کھیل کے انتظام کا بنیادی حصہ ہیں، جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پی ایس ایل مقابلوں میں یہی اصول نافذ رہتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ امپائر کا اشارہ صرف اندازہ نہیں بلکہ اسکورنگ کا سرکاری پیغام ہے۔
- ایک انگلی سیدھی اوپر: بلے باز آؤٹ۔
- دونوں بازو افقی: وائیڈ گیند۔
- ایک بازو اوپر، ہاتھ کھلا: نو بال۔
- بازو زمین کے برابر دائیں یا بائیں حرکت کرے: چوکا۔
- دونوں بازو سر کے اوپر: چھکا۔
- کلائی کے گرد انگلی گھومے: لیگ بائی یا بائی کے رنز کی نوعیت واضح کرنے والا اشارہ، جسے اسکورر دوسرے اشاروں کے ساتھ پڑھتا ہے۔
زیادہ تر غلط فہمیاں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب ناظر صرف انگلی دیکھتا ہے اور پورا اشارہ نہیں۔ مثال کے طور پر انگلی اوپر ہونا کیچ، ایل بی ڈبلیو یا اسٹمپنگ میں فرق نہیں بتاتا؛ یہ صرف آؤٹ کا عمومی اعلان ہے۔ اصل وجہ اس سے پہلے کی اپیل، گیند کی سمت، وکٹ کیپر کی حرکت اور ٹی وی ری پلے سے سمجھی جاتی ہے۔ کرکٹ امپائر کے اشارے یاد کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر اشارے کو اسکور میں ہونے والی تبدیلی سے جوڑیں، نہ کہ محض ہاتھ کی تصویر سے۔ تفصیلی قوانین کے لیے میریلی بون کرکٹ کلب کے قوانین دیکھیں، کیونکہ سوشل میڈیا کی مختصر ویڈیو اکثر آدھا سچ دکھاتی ہے۔
یہاں بنیادی اشاروں کا تصویری خلاصہ اور میچ کی مثالیں دیکھیں۔
مرحلہ 2: آؤٹ، نو بال اور وائیڈ میں فرق کیسے سمجھیں؟
آؤٹ کا اشارہ ایک انگلی اوپر اٹھانا ہے، نو بال کے لیے ایک بازو کندھے سے اوپر پھیلایا جاتا ہے، جبکہ وائیڈ کے لیے دونوں بازو زمین کے متوازی کھولے جاتے ہیں۔ آؤٹ ہونے پر وکٹ کا فیصلہ بدلتا ہے، نو بال پر بیٹنگ ٹیم کو کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے اور گیند قانونی شمار نہیں ہوتی، جبکہ وائیڈ بھی اضافی رن ہے مگر اس کا فیصلہ گیند کے بلے باز سے گزرنے کے مقام پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ فرق کرکٹ امپائر کے اشارے سمجھنے کی اصل بنیاد ہے۔
آؤٹ کے کئی طریقے ہیں، مگر اشارہ عموماً ایک ہی رہتا ہے۔ کیچ میں گیند بلے سے لگ کر زمین چھونے سے پہلے فیلڈر کے ہاتھ میں محفوظ ہو، ایل بی ڈبلیو میں گیند قانونی طور پر وکٹ کے راستے میں جسم سے ٹکرائے، اور رن آؤٹ میں بیٹر کریز سے باہر ہو جب وکٹ توڑی جائے۔ امپائر انگلی اٹھانے سے پہلے اپیل کا انتظار کر سکتا ہے، لیکن ہر اپیل پر آؤٹ دینا ضروری نہیں۔ اسی طرح نو بال کا اشارہ صرف فرنٹ فٹ سے متعلق نہیں؛ کمر سے اوپر فل ٹاس، خطرناک باؤنس، یا فیلڈنگ پابندی کی خلاف ورزی بھی متعلقہ سبب بن سکتی ہے۔ آئی سی سی کے مطابق ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں باؤلر کے پاؤں کی پوزیشن مسلسل نگرانی کا موضوع رہتی ہے، جبکہ تھرڈ امپائر فرنٹ فٹ نو بال بھی دیکھ سکتا ہے۔ نو بال اور وائیڈ کے مکمل قوانین
وائیڈ کا فیصلہ بھی اتنا سادہ نہیں جتنا تماشائی سمجھتے ہیں۔ اگر بلے باز آف اسٹمپ سے دور ہٹ جائے اور گیند اس کے نئے مقام کے حساب سے قابلِ رسائی ہو، تو ہر بار وائیڈ نہیں دی جاتی۔ دوسری طرف ٹی ٹوئنٹی میں بلے باز کے بدلتے اسٹانس نے امپائر کے لیے فیصلہ مشکل کیا ہے؛ بیٹر گیند سے پہلے جگہ بدلتا ہے تو وائیڈ کی حد بھی اسی حساب سے بدل سکتی ہے۔ یہی وہ باریک نکتہ ہے جسے عام خلاصے چھوڑ دیتے ہیں، پھر لوگ امپائر کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ کبھی قانون بھی پڑھ لیا کریں۔

مرحلہ 3: رنز اور باؤنڈری کے اشارے کیسے پڑھے جائیں؟
باؤنڈری کا اشارہ چار رنز کے لیے ایک بازو کو زمین کے متوازی آگے پیچھے حرکت دینا، اور چھ رنز کے لیے دونوں بازو سر کے اوپر اٹھانا ہے۔ بائی، لیگ بائی، اوور تھرو اور پانچ رنز کے غیر معمولی حالات میں امپائر اضافی اشارہ اسکورر کو دیتا ہے، اس لیے صرف گیند کے باؤنڈری پار جانے سے رنز کی قسم خودکار طور پر طے نہیں ہوتی۔ چوکا بیٹ سے لگنے والی گیند، بائی یا لیگ بائی، اور اوور تھرو کے ذریعے مختلف طریقوں سے بن سکتا ہے۔
اگر گیند بلے سے نہ لگے اور وکٹ کیپر کے پیچھے باؤنڈری تک چلی جائے، تو رنز بائی ہو سکتے ہیں؛ اگر گیند جسم سے لگی ہو اور بلے سے رابطہ نہ ہوا ہو، تو لیگ بائی کا امکان بنتا ہے۔ امپائر عموماً پہلے باؤنڈری کا اشارہ دیتا ہے اور پھر متعلقہ بائی یا لیگ بائی کا اشارہ کرتا ہے۔ اسکورر دونوں فیصلے ملا کر سرکاری اسکور بناتا ہے۔ پی ایس ایل، آئی پی ایل اور آئی سی سی ورلڈ کپ میں ٹی وی گرافکس اس عمل کو آسان دکھاتے ہیں، مگر گرافکس بھی امپائر کے اصل اشارے کے بعد آتے ہیں، پہلے نہیں۔ ایم سی سی قانون 19 باؤنڈری کی حد، رکاوٹ اور فیلڈر کے رابطے جیسے معاملات کو الگ الگ دیکھتا ہے۔ بائی، لیگ بائی اور اوور تھرو کی وضاحت
ایک اہم عملی نکتہ یہ ہے کہ فیلڈر کا باؤنڈری رسی سے رابطہ اور گیند کو روکنے کی کوشش رنز بدل سکتی ہے۔ اگر فیلڈر گیند روکنے سے پہلے رسی کو چھو لے تو گیند باؤنڈری شمار ہو سکتی ہے، چاہے وہ اندر واپس آ جائے۔ بعض مقابلوں میں باؤنڈری کی رسیاں معمولی طور پر اندر یا باہر رکھی جاتی ہیں، اس لیے میدان کے پہلے معائنے میں باؤنڈری کا درست مقام درج کیا جاتا ہے۔ یہ چھوٹی تفصیل آخری اوور میں ایک رن اور چار رنز کے درمیان فرق بنا سکتی ہے؛ پھر کپتان حیران ہوتا ہے جیسے قانون نے اسے ذاتی دشمنی میں ہرایا ہو۔
رنز کے اشارے اسکور بورڈ سے ملانے کے لیے یہ ترتیب استعمال کریں:
- امپائر کے پہلے اشارے سے دیکھیں کہ گیند باؤنڈری بنی یا نہیں۔
- دوسرا اشارہ تلاش کریں: بائی، لیگ بائی، نو بال یا وائیڈ۔
- اسکورر کا مجموعہ اور گیندوں کی تعداد چیک کریں۔
- اگر رنز اور قانونی گیندوں میں تضاد ہو تو کپتان یا اسکورر وضاحت مانگ سکتا ہے۔

اسکورنگ کے پیچیدہ فیصلوں کو مثالوں کے ساتھ سمجھنے کے لیے یہ رہنمائی مفید ہے۔
مرحلہ 4: ڈیڈ بال اور جرمانے کے اشارے کب دیکھنے چاہییں؟
ڈیڈ بال کا اشارہ دونوں ہاتھوں کو کمر کے سامنے کراس کرنا ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ گیند اس وقت کھیل میں نہیں رہی۔ جرمانے کے رنز کا اشارہ ایک ہاتھ سے دوسرے بازو کو پکڑنے جیسی حرکت سے دیا جاتا ہے، جبکہ فری ہٹ کا اعلان عموماً امپائر کے مخصوص ہاتھ کے اشارے اور براڈکاسٹ گرافک سے واضح ہوتا ہے۔ ڈیڈ بال کے بعد گیند پر رن، وکٹ یا قانونی ڈلیوری کا اثر نہیں رہتا، مگر اس سے پہلے کے واقعے کے مطابق جرمانہ برقرار رہ سکتا ہے۔
ڈیڈ بال صرف اس وقت نہیں ہوتی جب امپائر آواز سے کھیل روک دے۔ اگر بلے باز واضح طور پر تیار نہ ہو، بیرونی مداخلت ہو، باؤنسر خطرناک حد سے تجاوز کرے، فیلڈر زخمی ہو کر کھیل متاثر کرے یا بیٹر اور باؤلر کے درمیان کوئی غیر معمولی رکاوٹ پیدا ہو، تو امپائر گیند کو ڈیڈ قرار دے سکتا ہے۔ ایم سی سی قانون 20 میں یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ امپائر اپنی صوابدید سے گیند کے کھیل میں نہ رہنے کا اعلان کر سکتا ہے، مگر فیصلہ کھیل کے واقعے سے منسلک ہونا چاہیے۔ آئی سی سی کے قوانین اور کھیل کی شرائط میں بین الاقوامی فارمیٹس کے لیے مزید شرائط موجود ہیں۔
نو بال کے بعد فری ہٹ کا مطلب یہ نہیں کہ اگلی گیند پر ہر طرح کا آؤٹ ناممکن ہے۔ عام طور پر رن آؤٹ، اسٹمپنگ یا ہٹ وکٹ کے بعض حالات پھر بھی قانون کے دائرے میں رہتے ہیں، جبکہ کیچ یا ایل بی ڈبلیو کی پابندیاں الگ ہوتی ہیں۔ یہ فرق خاص طور پر پی ایس ایل اور آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اہم ہے، جہاں ایک گیند کا فیصلہ میچ کا رخ بدل دیتا ہے۔ اسکورر کو نو بال، فری ہٹ اور ڈیڈ بال کو الگ ریکارڈ کرنا چاہیے؛ تینوں کو ایک ہی خانہ سمجھنا شوقیہ غلطی ہے۔
مرحلہ 5: کیا ٹی وی امپائر کا فیصلہ کیسے جانچا جاتا ہے؟
ٹی وی امپائر یا تھرڈ امپائر ری پلے، مختلف کیمرہ زاویوں، ہاک آئی، الٹرا ایج اور بال ٹریکنگ جیسے ذرائع سے میدان کے فیصلے کی جانچ کرتا ہے۔ فیصلہ تبدیل کرنے کے لیے واضح ثبوت درکار ہوتا ہے؛ اگر تصاویر فیصلہ کن نہ ہوں تو میدان کے امپائر کا اصل فیصلہ برقرار رہتا ہے۔ ڈی آر ایس میں ریویو کی درخواست کپتان مقررہ وقت کے اندر کرتا ہے، اس لیے تاخیر سے کیا گیا اشارہ قبول نہیں ہوتا۔
ڈی آر ایس کے عمل میں تین اہم حصے ہوتے ہیں: میدان کا امپائر، ریویو مانگنے والی ٹیم اور ٹی وی امپائر۔ ایل بی ڈبلیو ریویو میں بال کی پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ سے ٹکرانے کی پیش گوئی دیکھی جاتی ہے؛ کیچ میں الٹرا ایج اور گیند کے زمین چھونے کا زاویہ اہم ہوتا ہے۔ فرنٹ فٹ نو بال کے لیے کیمرہ کریز کی لکیر دیکھتا ہے، اور اگر باؤلر کا پاؤں معمولی سا بھی ممنوع مقام پر ہو تو نو بال دی جا سکتی ہے۔ یہ مخصوص جانچ عام ناظر کے لیے اکثر نظر انداز رہتی ہے، مگر 2026 کے بین الاقوامی میچوں میں اس کا استعمال فیصلہ سازی کا مستقل حصہ ہے۔
امپائر ریویو کے بعد ہاتھ سے مربع شکل بنا کر ٹی وی امپائر سے رابطے کا اشارہ دے سکتا ہے۔ بعض مواقع پر انگلی اٹھانے سے پہلے ریویو کا انتظار ہوتا ہے، جبکہ بعض فیصلوں میں گیند کے مردہ ہونے کے بعد ہی ریویو لیا جا سکتا ہے۔ ڈی آر ایس، ہاک آئی اور الٹرا ایج کا گائیڈ یاد رکھیں، ریویو کا مقصد پسندیدہ ٹیم کو بچانا نہیں بلکہ واضح غلطی درست کرنا ہے۔ ہر اپیل پر ریویو ضائع کرنا کپتانی نہیں، گھبراہٹ کا مہنگا مظاہرہ ہے۔
ٹی وی امپائر کے فیصلے پڑھتے وقت یہ چار چیزیں نوٹ کریں:
- میدان کے امپائر کا ابتدائی فیصلہ کیا تھا؟
- ریویو کس بنیاد پر مانگا گیا؟
- بال ٹریکنگ یا الٹرا ایج نے کیا دکھایا؟
- آخری اشارہ اور اسکور بورڈ ایک دوسرے سے ملتے ہیں یا نہیں؟
مرحلہ 6: عام غلطیاں کیوں ہوتی ہیں اور انہیں کیسے درست کریں؟
کرکٹ امپائر کے اشاروں میں عام غلطی اس وقت ہوتی ہے جب ناظر ہاتھ کی شکل، فیصلے کی وجہ اور اسکورنگ اثر کو ایک ہی چیز سمجھ لیتا ہے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ پہلے اشارہ پہچانا جائے، پھر امپائر کی زبانی وضاحت یا ٹی وی گرافکس دیکھے جائیں، اور آخر میں اسکور بورڈ سے تصدیق کی جائے۔ پانچ عام الجھنیں آؤٹ اور ریویو، نو بال اور فری ہٹ، وائیڈ اور بیٹر کی حرکت، چوکا اور اوور تھرو، اور ڈیڈ بال اور جرمانے کے درمیان پیدا ہوتی ہیں۔
اگر آؤٹ کا اشارہ نظر آئے مگر اسکور تبدیل نہ ہو، تو ممکن ہے ریویو زیرِ غور ہو۔ اگر نو بال کے بعد بیٹر کیچ ہو جائے اور پھر بھی بیٹر واپس نہ آئے، تو فری ہٹ اور آؤٹ کی قسم دوبارہ دیکھیں۔ اگر وائیڈ نہ دی جائے تو بیٹر کے گیند سے پہلے قدم اور اسٹانس کا جائزہ لیں۔ اگر چوکا دیا گیا ہو مگر اسکور میں پانچ رنز شامل ہوں، تو ممکن ہے اوور تھرو یا نو بال بھی ساتھ موجود ہو۔ بیٹنگ نوٹس کے میچ جائزوں میں بھی یہی اصول استعمال کیا جاتا ہے: فیصلے کو ایک واقعہ نہیں بلکہ پورے تسلسل کے طور پر پڑھیں۔
ایک مفید چیک لسٹ یہ ہے:
- امپائر کا ہاتھ کس سمت گیا؟
- گیند قانونی تھی یا نہیں؟
- گیند بلے، جسم یا کسی فیلڈر سے ٹکرائی؟
- گیند کھیل میں تھی یا ڈیڈ بال قرار دی گئی؟
- کیا ڈی آر ایس، فری ہٹ یا جرمانے کا اضافی اثر موجود ہے؟
آئی سی سی اور ایم سی سی کی شرائط میں معمولی فارمیٹ فرق ہو سکتا ہے، اس لیے ٹیسٹ، ون ڈے، پی ایس ایل اور ٹی ٹوئنٹی میں ایک ہی اشارے کا عملی نتیجہ ہمیشہ یکساں نہیں سمجھنا چاہیے۔ قانون کا حوالہ دیکھیں، کلپ کے تبصروں پر اندھا اعتماد نہ کریں۔

کرکٹ کے فیصلوں، کھلاڑیوں کے اعداد و شمار اور پی ایس ایل جائزوں کے لیے تازہ تجزیہ یہاں دیکھیں۔
خلاصہ: امپائر کے اشارے یاد رکھنے کا آسان نقشہ
کرکٹ امپائر کے اشارے دراصل کھیل کی مختصر بصری زبان ہیں۔ ایک انگلی آؤٹ، ایک بازو اوپر نو بال، دونوں بازو پھیلے ہوں تو وائیڈ، ایک بازو کی افقی حرکت چوکا، دونوں بازو اوپر چھکا، اور کمر کے سامنے کراس ہاتھ ڈیڈ بال کا بنیادی مطلب دیتے ہیں۔ مگر اصل ماہر وہ نہیں جو صرف نشانیاں رٹ لے؛ ماہر وہ ہے جو اشارے کو گیند کی قانونی حیثیت، رنز، اپیل، ریویو اور اسکور بورڈ کے ساتھ ملا کر سمجھتا ہے۔ ایم سی سی قوانین اور آئی سی سی کھیل کی شرائط کو بنیادی حوالہ بنائیں، جبکہ پی ایس ایل یا مقامی میچ دیکھتے وقت ٹی وی گرافکس کو معاون سمجھیں، حتمی قانون نہیں۔ اگلی بار امپائر کا ہاتھ اٹھے تو فوراً فیصلہ سنانے کے بجائے پانچ سیکنڈ رکیں، مکمل اشارہ دیکھیں اور پھر اسکور کا اثر نوٹ کریں۔
اپنی کرکٹ سمجھ مزید بہتر بنانے کے لیے یہ آخری رہنمائی کھولیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کرکٹ امپائر کے اشارے کیا ہوتے ہیں؟
جواب: کرکٹ امپائر کے اشارے ہاتھ اور بازو کی مخصوص حرکات ہیں جو آؤٹ، نو بال، وائیڈ، باؤنڈری، ڈیڈ بال اور اضافی رنز بتاتی ہیں۔ ایک انگلی اوپر آؤٹ، دونوں بازو پھیلانا وائیڈ، اور دونوں بازو سر کے اوپر اٹھانا چھکے کی علامت ہے۔ یہ اشارے آئی سی سی، ایم سی سی، پی ایس ایل اور مقامی کرکٹ میں اسکورر، کھلاڑیوں اور تماشائیوں کو ایک ہی فیصلہ سمجھانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مکمل فیصلہ سمجھنے کے لیے اشارے کے ساتھ گیند کی قانونی حیثیت بھی دیکھیں۔
سوال: امپائر نو بال کا اشارہ کیسے کرتا ہے؟
جواب: نو بال کے لیے امپائر ایک بازو کو کندھے سے اوپر پھیلاتا ہے۔ اس فیصلے سے بیٹنگ ٹیم کو کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے اور گیند قانونی ڈلیوری شمار نہیں ہوتی، جبکہ بعض محدود اوور فارمیٹس میں اگلی گیند فری ہٹ بن سکتی ہے۔ فرنٹ فٹ نو بال کے علاوہ کمر سے اوپر فل ٹاس، خطرناک باؤنس یا فیلڈنگ پابندی کی خلاف ورزی بھی وجہ بن سکتی ہے۔ ٹی وی امپائر کیمرہ ری پلے سے فرنٹ فٹ کی تصدیق کر سکتا ہے۔
سوال: وائیڈ اور نو بال میں کیا فرق ہے؟
جواب: وائیڈ میں گیند بیٹر کی قابلِ رسائی حد سے باہر جاتی ہے، جبکہ نو بال میں باؤلر ڈلیوری کے قانونی اصول کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے، مگر نو بال پر گیند قانونی شمار نہیں ہوتی اور عموماً فری ہٹ کا موقع بھی پیدا ہوتا ہے۔ وائیڈ کی حد بیٹر کے اسٹانس اور حرکت سے متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے ہر باہر جاتی گیند وائیڈ نہیں ہوتی۔ اسکور بورڈ پر وائیڈ اور نو بال الگ خانوں میں درج ہوتے ہیں۔
سوال: چوکے اور چھکے کے اشارے کیسے پہچانیں؟
جواب: چوکے کے لیے امپائر ایک بازو کو زمین کے متوازی حرکت دیتا ہے، جبکہ چھکے کے لیے دونوں بازو سر کے اوپر اٹھاتا ہے۔ چوکا عام طور پر گیند کے زمین سے لگ کر باؤنڈری پار کرنے پر دیا جاتا ہے، اور چھکا تب ہوتا ہے جب گیند بیٹ سے لگنے کے بعد زمین کو چھوئے بغیر باؤنڈری سے باہر جائے۔ بائی، لیگ بائی، نو بال یا اوور تھرو کی صورت میں باؤنڈری کے ساتھ اضافی اشارہ بھی دیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے صرف بازو دیکھ کر رنز کی مکمل قسم طے نہ کریں۔
سوال: ڈی آر ایس کے بعد امپائر کا اشارہ کیوں بدل سکتا ہے؟
جواب: ڈی آر ایس میں واضح ری پلے ملنے پر ٹی وی امپائر میدان کے ابتدائی فیصلے کو تبدیل کرنے کی سفارش کر سکتا ہے۔ ایل بی ڈبلیو میں پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ سے ٹکرانے کی پیش گوئی دیکھی جاتی ہے، جبکہ کیچ میں الٹرا ایج اور گیند کے زمین چھونے کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اگر ثبوت فیصلہ کن نہ ہو تو میدان کا اصل فیصلہ برقرار رہتا ہے۔ کپتان کو ریویو مقررہ وقت میں مانگنا ہوتا ہے، ورنہ درخواست قبول نہیں کی جاتی۔
سوال: ڈیڈ بال کا اشارہ کیا ہے اور اس کا اثر کیا ہوتا ہے؟
جواب: ڈیڈ بال کا اشارہ دونوں ہاتھوں کو کمر کے سامنے کراس کرنا ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ گیند کھیل میں نہیں رہی۔ اس کے بعد عام طور پر نئی رننگ یا وکٹ کا اثر نہیں ہوتا، مگر ڈیڈ بال سے پہلے بننے والا جرمانہ برقرار رہ سکتا ہے۔ بلے باز کا تیار نہ ہونا، بیرونی مداخلت، خطرناک باؤنس یا فیلڈر کی سنگین رکاوٹ اس فیصلے کی وجہ بن سکتی ہے۔ اسکورر کو ڈیڈ بال کا وقت اور متعلقہ واقعہ الگ نوٹ کرنا چاہیے۔
سوال: کرکٹ امپائر کے اشارے یاد کرنے کا آسان طریقہ کیا ہے؟
جواب: اشاروں کو ان کے اسکورنگ اثر کے ساتھ جوڑنا یاد رکھنے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ انگلی اوپر آؤٹ، ایک بازو اوپر نو بال، دونوں بازو باہر وائیڈ، افقی بازو چوکا، اوپر اٹھے بازو چھکا اور کراس ہاتھ ڈیڈ بال یاد رکھیں۔ میچ دیکھتے وقت پہلے اشارہ خود پہچانیں، پھر ٹی وی گرافک اور اسکور بورڈ سے تصدیق کریں۔ ایم سی سی قوانین کے تصویری حوالوں کو ایک صفحے پر لکھ کر دہرانا نئے ناظرین کے لیے خاصا مؤثر رہتا ہے۔
پڑھنے کے لیے شکریہ
بیٹنگ نوٹس · Editorial Archive · 2026