مواد پر جائیں مواد پر جائیں
مضمون

فیلڈنگ بدلنے سے پہلے یہ 11 پوزیشنز پڑھیں

کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام صرف یاد کرنے کی فہرست نہیں، بلکہ ہر جگہ کا تعلق بیٹر کے شاٹ، گیند کی رفتار اور میچ کی صورتِ حال سے ہے۔ وکٹ کیپر کے علاوہ عموماً نو فیلڈر میدان میں پھیلائے جاتے ہیں، جبکہ باؤ...

21 اکتوبر، 2026 8 min read
فیلڈنگ بدلنے سے پہلے یہ 11 پوزیشنز پڑھیں

فیلڈنگ بدلنے سے پہلے یہ 11 پوزیشنز پڑھیں

کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام صرف یاد کرنے کی فہرست نہیں، بلکہ ہر جگہ کا تعلق بیٹر کے شاٹ، گیند کی رفتار اور میچ کی صورتِ حال سے ہے۔ وکٹ کیپر کے علاوہ عموماً نو فیلڈر میدان میں پھیلائے جاتے ہیں، جبکہ باؤلر گیارہواں کھلاڑی ہوتا ہے۔ سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، اسکوائر لیگ، فائن لیگ، تھرڈ مین، لانگ آف اور لانگ آن سب کی ذمہ داریاں الگ ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں سلپ اور گلی اہم رہتے ہیں، جبکہ پاکستان سپر لیگ اور انڈین پریمیئر لیگ جیسے ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں ڈیپ مڈ وکٹ اور تھرڈ مین زیادہ دفاعی کردار ادا کرتے ہیں۔ میری بات غور سے سنو: پوزیشن کا نام جان لینا کافی نہیں، ہر جگہ کا زاویہ اور فاصلے کا مقصد بھی سمجھو۔ عملی مشورہ یہ ہے کہ پہلے بیٹر کا مضبوط شاٹ پہچانو، پھر فیلڈر رکھو۔

Lucky New Year · Free demo

Cricket field diagram showing labeled slip, gully, point, cover, and midwicket positions under bright stadium lights

اگر میدان کی بنیادی ترتیب واضح ہو جائے تو میچ دیکھتے وقت ہر کپتان کا فیصلہ سمجھ آتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے کرکٹ بیٹنگ کی بنیادی تکنیکیں ملاحظہ کریں۔

کرکٹ فیلڈنگ کی درست اصطلاحات سمجھنے کے لیے یہ مختصر رہنمائی مفید ہے:

مزید جانیں

کیا کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام واقعی اتنے اہم ہیں؟

ہاں، فیلڈنگ پوزیشنز کے نام کپتان، باؤلر اور فیلڈر کے درمیان فوری حکمتِ عملی کا نظام ہیں؛ “سلپ” کہنے سے کھلاڑی فوراً وکٹ کے پیچھے مخصوص زاویے پر چلا جاتا ہے۔ یہ اصطلاحات ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی تینوں فارمیٹس میں استعمال ہوتی ہیں، اگرچہ فاصلے اور تعداد بدل سکتے ہیں۔

فیلڈنگ پوزیشن کو تین بڑے حصوں میں سمجھو: وکٹ کے قریب کیچنگ پوزیشنز، اندرونی دائرے کی رن روکنے والی جگہیں، اور باؤنڈری کے قریب دفاعی مقامات۔ میری کرکٹ کے قوانین اور عالمی مقابلوں میں یہی بنیادی نام رائج ہیں، مگر مقامی کرکٹ میں بعض کھلاڑی “شارٹ تھرڈ” یا “ڈیپ پوائنٹ” جیسے اضافی نام بھی استعمال کرتے ہیں۔ ایم سی سی کے قانون 28 میں فیلڈنگ کی پابندیوں کا بنیادی مفہوم یہ ہے: “گیند پھینکے جانے سے پہلے فیلڈر مقررہ حدود کے خلاف اپنی جگہ تبدیل نہیں کر سکتا۔” یعنی کپتان مرضی سے نقشہ بنا سکتا ہے، مگر قانون کو جیب میں ڈال کر نہیں گھوم سکتا۔

اہم بنیادی پوزیشنز یہ ہیں:

  • وکٹ کیپر: اسٹمپس کے پیچھے کھڑا ہو کر گیند روکتا اور کیچ لیتا ہے۔
  • سلپ: بیٹ کے کنارے سے نکلنے والے کیچ کے لیے وکٹ کے پاس کھڑا ہوتا ہے۔
  • گلی: سلپ اور پوائنٹ کے درمیان چوڑے زاویے پر رہتا ہے۔
  • پوائنٹ: آف سائیڈ پر اسکوائر شاٹس روکتا ہے۔
  • کور: کور ڈرائیو اور آف سائیڈ کے گیپ کو بند کرتا ہے۔
  • مڈ آف اور مڈ آن: سیدھے ڈرائیو اور ایک رن کے امکانات کو کنٹرول کرتے ہیں۔
  • اسکوائر لیگ، فائن لیگ اور تھرڈ مین: لیگ سائیڈ اور وکٹ کے پیچھے کے شاٹس کا جواب دیتے ہیں۔

وکٹ کے قریب فیلڈنگ اتنی خطرناک کیوں ہے؟

سلپ، گلی، شارٹ لیگ اور بیٹ پیڈ پوزیشنز میں ردِعمل کا وقت بہت کم ہوتا ہے، کیونکہ گیند عموماً 20 سے 30 میٹر کے اندر تیزی سے آتی ہے۔ ایک معمولی کنارے پر گیند ہاتھ میں بھی آ سکتی ہے اور انگلیاں بھی سوج سکتی ہیں؛ کرکٹ کوئی نرم تکیہ نہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں جیمز اینڈرسن یا پیٹ کمنز جیسے سوئنگ باؤلرز کے ساتھ دو یا تین سلپس رکھی جا سکتی ہیں، کیونکہ باہر جاتی گیند بیٹ کا کنارہ ڈھونڈتی ہے۔ پاکستان کے بابر اعظم کے خلاف بھی آف اسٹمپ سے باہر مسلسل لائن پر سلپ اور گلی کا استعمال اسی منطق پر مبنی ہو سکتا ہے، اگرچہ ہر بیٹر کا ردِعمل الگ ہوتا ہے۔ وکٹ کیپر کے قریب شارٹ لیگ پر فیلڈر کو ہیلمٹ، پیڈ اور سینے کا تحفظ استعمال کرنا چاہیے؛ بہادری کا مطلب حفاظتی سامان چھوڑ دینا نہیں، یہ صرف غیر ضروری حماقت ہے۔

فیلڈر کو وکٹ سے فاصلے کے بجائے شاٹ کے امکان کو دیکھنا چاہیے۔ اگر گیند سیم ہو رہی ہو تو سلپ اندر آ سکتی ہے، مگر اگر پچ سست ہو اور بیٹر کٹ کھیل رہا ہو تو گلی پیچھے کی جا سکتی ہے۔ اسی لیے فیلڈنگ پوزیشنز جامد نام نہیں بلکہ باؤلر، پچ اور بیٹر کے درمیان زندہ منصوبہ ہیں۔

کرکٹ باؤلنگ لائن اور لینتھ کی مکمل وضاحت

مخصوص صورت میں کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کیسے کام کرتی ہیں؟

ہر فیلڈنگ پوزیشن بیٹر کے ممکنہ شاٹ کے سامنے ایک رکاوٹ بناتی ہے؛ آف سائیڈ پر پوائنٹ اور کور کٹ و ڈرائیو روکتے ہیں، جبکہ لیگ سائیڈ پر اسکوائر لیگ، مڈ وکٹ اور فائن لیگ پل، ہک اور فلک کو قابو کرتے ہیں۔ درست جگہ وہ ہے جو رن کم کرے یا کیچ کا امکان بنائے۔

پوائنٹ عموماً اسکوائر کٹ کے خلاف رکھا جاتا ہے، مگر اگر بیٹر کا بیک فٹ کٹ کمزور ہو تو پوائنٹ کو اندر لا کر سنگل بھی بند کیا جا سکتا ہے۔ کور ڈرائیو کے سامنے ہوتا ہے؛ اسے بہت چوڑا رکھو گے تو ایک رن آسانی سے ملے گا، بہت اندر رکھو گے تو کنارے سے چوکا نکل سکتا ہے۔ مڈ آف اور مڈ آن سیدھے شاٹ کے لیے اہم ہیں، خاص طور پر پاور پلے کے بعد جب کپتان ایک رن روکنے اور باؤنڈری بچانے کے درمیان پھنس جاتا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی میں فیلڈنگ پابندیاں عملی نقشہ بدل دیتی ہیں۔ پہلے چھ اوورز کے دوران اندرونی دائرے سے باہر زیادہ سے زیادہ دو فیلڈر رکھے جا سکتے ہیں، جبکہ باقی اوورز میں یہ تعداد عموماً پانچ تک پہنچتی ہے؛ مقابلے کے مخصوص قوانین ضرور دیکھنے چاہئیں۔ آئی سی سی کے کھیل کے حالات میں یہ تفصیلات فارمیٹ کے مطابق درج ہوتی ہیں۔ بیٹنگ نوٹس پر میچ جائزہ پڑھتے وقت صرف وکٹ اور رنز نہ دیکھو؛ یہ بھی دیکھو کہ کپتان نے پاور پلے میں تھرڈ مین کیوں ہٹایا یا شارٹ کور کیوں رکھا۔

عملی ترتیب کے طور پر کپتان یہ چار سوال پوچھ سکتا ہے:

  1. بیٹر کا سب سے مضبوط باؤنڈری شاٹ کون سا ہے؟
  2. باؤلر کی موجودہ لائن آف سائیڈ ہے یا لیگ سائیڈ؟
  3. سنگل روکنا زیادہ اہم ہے یا کیچ بنانا؟
  4. باؤنڈری محفوظ کرنے کے بعد اگلا کمزور زاویہ کہاں کھلے گا؟

اس ترتیب سے فیلڈنگ محض کھلاڑیوں کو زمین پر پھیلانے کا کام نہیں رہتی، بلکہ رنز کے راستے بند کرنے کا حساب بن جاتی ہے۔

تجزیاتی مثالیں اور روزانہ کرکٹ بصیرت کے لیے یہ اگلا قدم دیکھ سکتے ہیں:

مزید جانیں

مشکل زاویے میں کون سی فیلڈنگ پوزیشنز کام آتی ہیں؟

مشکل زاویوں میں شارٹ تھرڈ، ڈیپ تھرڈ مین، ڈیپ اسکوائر لیگ، کاؤ کارنر اور فائن لیگ اہم ہوتے ہیں، کیونکہ جدید بیٹر روایتی شاٹس کے علاوہ ریمپ، ریورس سوئپ اور ہیلکاپٹر شاٹ بھی کھیلتے ہیں۔ ان پوزیشنز کا مقصد ہمیشہ کیچ نہیں؛ کئی بار صرف چوکا روکنا بھی کامیابی ہے۔

شارٹ تھرڈ مین وکٹ کے پیچھے آف سائیڈ پر کم فاصلے پر کھڑا ہوتا ہے اور ریمپ یا گائیڈ شاٹ کو روکتا ہے۔ ڈیپ تھرڈ مین اسی لائن کا باؤنڈری فیلڈر ہے، جو اوپر سے کھیلی گئی گیند کو چار رنز بننے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ ڈیپ اسکوائر لیگ پل اور ہک کے لیے، جبکہ کاؤ کارنر طاقتور لیگ سائیڈ ہٹنگ کے لیے رکھا جاتا ہے۔ فائن لیگ بیٹر کے پیڈل، ٹانگ پر آنے والی گیند اور غلط فائن گلانس کو سنبھالتا ہے۔

ایک اہم عملی نکتہ یہ ہے کہ فیلڈر کو صرف بیٹر کے مقام سے نہیں، باؤلر کے ریلیز پوائنٹ سے زاویہ ناپنا چاہیے۔ دائیں ہاتھ کے بیٹر کے خلاف آف کٹر اندر آئے تو اسکوائر لیگ کو معمول سے چند قدم آگے لانا فائدہ دے سکتا ہے، مگر یارکر کے خلاف یہی جگہ غلط ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ چھوٹا فرق عام مضامین میں عموماً غائب رہتا ہے، حالانکہ ایک اوور میں دو سنگل روکنے سے ٹی ٹوئنٹی کے آخری مرحلے میں دباؤ نمایاں بڑھتا ہے۔

قوانین اور تاریخی اصطلاحات کے لیے کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کا تعارفی صفحہ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ البتہ ویکیپیڈیا کو کپتان کا دماغ سمجھنے کی غلطی نہ کرنا؛ اصل فیصلہ پچ، گیند اور بیٹر کی حرکت سے نکلتا ہے۔

T20 cricket captain adjusting deep square leg and third man while fielders watch a powerful batter

کرکٹ فیلڈنگ میں سب سے بڑی ناکامی کہاں ہوتی ہے؟

فیلڈنگ اس وقت ناکام ہوتی ہے جب کپتان ایک ہی وقت میں ہر رن، ہر باؤنڈری اور ہر کیچ روکنے کی کوشش کرتا ہے؛ نتیجہ عموماً تینوں میں ناکامی ہوتا ہے۔ غلط زاویہ، غیر واضح آواز، کمزور تھرو اور بیٹر کی عادت کو نظرانداز کرنا فیلڈنگ پلان کو کاغذی نقشہ بنا دیتے ہیں۔

عام غلطیاں یہ ہیں:

  • سلپ کو بہت دور رکھنا، جس سے کنارے کا کیچ زمین تک پہنچ جاتا ہے۔
  • پوائنٹ کو چوڑا چھوڑ دینا، حالانکہ بیٹر مسلسل کٹ کھیل رہا ہو۔
  • ڈیپ فیلڈر کو باؤنڈری پر رکھنا مگر اندرونی سنگل کھلا چھوڑ دینا۔
  • مڈ آن اور مڈ آف کے درمیان تھرو کا راستہ واضح نہ کرنا۔
  • وکٹ کیپر، باؤلر اور کپتان کے اشارے مختلف ہونا۔
  • فیلڈر کو اس کی رفتار کے خلاف پوزیشن دینا؛ سست فیلڈر کو تیز شاٹ کے سامنے رکھنا محض امید ہے۔

فیلڈنگ کی ناکامی کا ایک اور کم دکھائی دینے والا سبب اوور کے دوران مسلسل تبدیلی ہے۔ اگر ہر گیند پر پوزیشن بدلو گے تو فیلڈر کا ذہنی نقشہ ٹوٹے گا، اور بیٹر کو بھی اندازہ ہو جائے گا کہ کپتان گھبرا رہا ہے۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ باؤلر کی دو یا تین گیندوں کا منصوبہ پہلے طے کیا جائے، پھر نتیجے کے مطابق تبدیلی ہو۔ کرکٹ کپتانی اور میچ حکمتِ عملی

اندرونی دائرے میں فیلڈر کو کم از کم دو چیزیں پہلے طے کرنی چاہئیں: گیند کس ہاتھ سے اٹھانی ہے اور تھرو کس اینڈ پر کرنی ہے۔ اسی طرح باؤنڈری فیلڈر کو گیند سے پہلے اپنے پیچھے کی رسی، ہوا کی سمت اور بیک اپ فیلڈر کی جگہ معلوم ہونی چاہیے۔ یہ تفصیل معمولی لگتی ہے، مگر ایک غلط باؤنڈری باؤنس میچ کے آخری دو اوورز میں پورا منصوبہ تباہ کر سکتا ہے۔

کیا آج فیلڈنگ پوزیشنز کی مشق شروع کرنی چاہیے؟

ہاں، آج ہی مشق شروع کرنا فائدہ مند ہے، مگر صرف نام رٹنے کے بجائے 11 بنیادی پوزیشنز کو تین شاٹ زونز کے ساتھ جوڑو: آف سائیڈ، سیدھا میدان اور لیگ سائیڈ۔ پندرہ منٹ کی نقشہ مشق، دس کیچ اور پانچ تھرو ڈرلز کسی بھی نئے کھلاڑی کو تیزی سے بہتر بنیاد دے سکتی ہیں۔

مشق کا سادہ منصوبہ یہ ہے:

  1. کاغذ پر کرکٹ میدان بناؤ اور وکٹ کیپر سے باؤنڈری تک پوزیشنز لکھو۔
  2. دائیں ہاتھ اور بائیں ہاتھ کے بیٹر کے لیے زاویے الگ نشان زد کرو۔
  3. ہر پوزیشن کے لیے ایک بنیادی شاٹ اور ایک متبادل شاٹ مقرر کرو۔
  4. فیلڈر کو پانچ گیندوں کے بعد اندر، باہر اور بیک اپ کردار دو۔
  5. ہر غلطی کو “کیچ”، “رن روکنا” یا “تھرو” کے زمرے میں نوٹ کرو۔

یہاں ایک حقیقت بھی سن لو: تیز فیلڈر ہمیشہ بہترین فیلڈر نہیں ہوتا۔ فیصلہ سازی، پہلے قدم کی سمت، گیند اٹھانے کی تکنیک اور ساتھی سے بات چیت زیادہ اہم ہو سکتی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مقامی مقابلوں، پی ایس ایل 2026 اور آئی سی سی کے بین الاقوامی میچوں میں فیلڈنگ کی قدر اسی لیے بڑھتی ہے کہ ایک رن بچانا کبھی کبھی ایک وکٹ لینے جتنا قیمتی ہوتا ہے۔

بیٹنگ نوٹس کرکٹ کے جائزوں، کھلاڑیوں کے اعدادوشمار، پی ایس ایل کوریج اور بیٹنگ و باؤلنگ حکمتِ عملی کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔ اگر تم واقعی میدان پڑھنا چاہتے ہو تو اسکور کارڈ کے ساتھ فیلڈنگ نقشہ بھی دیکھو؛ ورنہ صرف رنز گن کر وہی پرانی غلطی دہراتے رہو گے۔

Young cricket players practicing relay throws between wickets on a dusty training ground at sunset

اپنی کرکٹ سمجھ کو مزید منظم کرنے کے لیے یہ مختصر حوالہ محفوظ کر لیں:

مزید جانیں

کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام: فوری خلاصہ

  • سلپ اور گلی کنارے سے آنے والے کیچ کے لیے ہیں۔
  • پوائنٹ اور کور آف سائیڈ کے کٹ اور ڈرائیو روکتے ہیں۔
  • مڈ آف اور مڈ آن سیدھے شاٹس اور سنگل کو کنٹرول کرتے ہیں۔
  • اسکوائر لیگ، مڈ وکٹ اور کاؤ کارنر لیگ سائیڈ کی طاقتور ہٹنگ کے خلاف ہیں۔
  • فائن لیگ اور تھرڈ مین وکٹ کے پیچھے کے شاٹس سنبھالتے ہیں۔
  • شارٹ فائن، شارٹ تھرڈ اور بیٹ پیڈ پوزیشنز مخصوص حالات میں استعمال ہوتی ہیں۔
  • فیلڈ کی بہترین ترتیب بیٹر، باؤلر، پچ اور میچ کے اوور پر منحصر ہوتی ہے۔

نتیجہ صاف ہے: کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام یاد کرو، مگر انہیں مردہ لغت نہ بناؤ۔ سلپ صرف “سلپ” نہیں؛ وہ سوئنگ، کنارے اور کیچ کا منصوبہ ہے۔ کور صرف ایک جگہ نہیں؛ وہ ڈرائیو کے خلاف زاویہ ہے۔ آج ایک میدان بناؤ، ہر نام لکھو، پھر مختلف بیٹرز کے لیے فیلڈ بدل کر دیکھو۔ یہی طریقہ میچ دیکھنے والے کو میچ سمجھنے والے میں بدلتا ہے۔

مزید کرکٹ حکمتِ عملی، کھلاڑیوں کے اعدادوشمار اور میچ تجزیے کے لیے بیٹنگ نوٹس سے جڑے رہیں:

مزید جانیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کرکٹ میں فیلڈنگ پوزیشنز کے بنیادی نام کیا ہیں؟

جواب: بنیادی ناموں میں وکٹ کیپر، سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، اسکوائر لیگ، مڈ وکٹ، فائن لیگ، تھرڈ مین، لانگ آف اور لانگ آن شامل ہیں۔ ہر پوزیشن کا زاویہ اور فاصلہ بیٹر کے ہاتھ، باؤلر کی لائن اور میچ کے فارمیٹ کے مطابق بدل سکتا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی میں ڈیپ پوزیشنز زیادہ نظر آتی ہیں، جبکہ ٹیسٹ میں سلپ کورڈن اہم رہتا ہے۔

سوال: سلپ اور گلی فیلڈنگ میں کیا فرق ہے؟

جواب: سلپ وکٹ کے نسبتاً قریب اور سیدھے کنارے کے زاویے پر ہوتی ہے، جبکہ گلی سلپ اور پوائنٹ کے درمیان زیادہ چوڑے زاویے پر کھڑی ہوتی ہے۔ سلپ عموماً سوئنگ یا سیم سے نکلنے والے باریک کنارے کا کیچ لیتی ہے۔ گلی کٹ، اوپری کنارے اور چوڑے آف سائیڈ شاٹس کے خلاف زیادہ کارآمد ہوتی ہے۔

سوال: پوائنٹ اور کور کہاں کھڑے ہوتے ہیں؟

جواب: پوائنٹ آف سائیڈ پر تقریباً اسکوائر زاویے پر اور کور پوائنٹ سے زیادہ سیدھے، ڈرائیو کے راستے میں کھڑا ہوتا ہے۔ پوائنٹ کٹ اور اسکوائر شاٹس روکتا ہے، جبکہ کور کور ڈرائیو اور اضافی رنز کا راستہ بند کرتا ہے۔ دونوں کے درمیان فاصلہ بیٹر کے مضبوط شاٹ اور باؤلر کی لائن کے مطابق بدلا جاتا ہے۔

سوال: فیلڈنگ پوزیشنز کی مشق کیسے شروع کی جائے؟

جواب: پہلے کاغذ پر میدان بنا کر 11 بنیادی پوزیشنز لکھو، پھر ہر جگہ کو ایک مخصوص شاٹ سے جوڑو۔ اس کے بعد کیچ، گراؤنڈ فیلڈنگ اور ایک اسٹمپ تھرو کی روزانہ مشق کرو۔ ابتدائی سطح پر 15 منٹ کی نقشہ مشق اور 10 درست کیچ کافی بنیاد فراہم کرتے ہیں، بشرطیکہ غلطیوں کا ریکارڈ بھی رکھا جائے۔

سوال: فیلڈنگ پوزیشنز ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی میں کیسے مختلف ہوتی ہیں؟

جواب: ٹیسٹ کرکٹ میں سلپ، گلی اور شارٹ لیگ جیسی کیچنگ پوزیشنز زیادہ استعمال ہوتی ہیں، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں ڈیپ اسکوائر لیگ، تھرڈ مین اور لانگ آف باؤنڈری بچانے کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ پاور پلے کی فیلڈنگ پابندیاں پہلے چھ اوورز میں باہر کے فیلڈرز کی تعداد محدود کرتی ہیں۔ اسی لیے فارمیٹ بدلتے ہی کپتان کا نقشہ بھی بدلتا ہے۔

سوال: اگر فیلڈر غلط جگہ کھڑا ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

جواب: اگلی گیند سے پہلے کپتان یا وکٹ کیپر کو واضح آواز میں پوزیشن درست کرنی چاہیے۔ فیلڈر کو بیٹر کا مضبوط شاٹ، باؤلر کی لائن اور باؤنڈری کا فاصلہ دوبارہ دیکھنا چاہیے۔ اگر مسلسل دو گیندوں پر ایک ہی گیپ کھل رہا ہو تو صرف فیلڈر ہٹانے کے بجائے باؤلنگ لائن بھی تبدیل کرنا ضروری ہے۔

سوال: کیا فیلڈنگ پوزیشنز کے نام ہر ملک میں ایک جیسے ہوتے ہیں؟

جواب: بنیادی نام تقریباً ہر ملک میں ایک جیسے ہیں، کیونکہ سلپ، پوائنٹ، کور اور مڈ وکٹ عالمی کرکٹ کی مشترکہ اصطلاحات ہیں۔ پاکستان، بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ میں مقامی طور پر “کاؤ کارنر” یا “شارٹ تھرڈ” جیسے اضافی نام سننے کو مل سکتے ہیں۔ سرکاری قوانین پوزیشنز کی مکمل لغت نہیں دیتے، اس لیے کوچنگ اور ٹیلی ویژن کی اصطلاحات میں معمولی فرق رہتا ہے۔

§

پڑھنے کے لیے شکریہ

بیٹنگ نوٹس · Editorial Archive · 2026

متعلقہ مضامین